انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ڈاکٹر ہمابقائی کی کتاب “کلیکٹڈ ورکس آن فارن افیئرز اینڈ سکیورٹی پالیسی” پر مباحثہ سے شرکاءکا خطاب

25

اسلام آباد۔14نومبر  (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں ڈاکٹر ہمابقائی کی کتاب “کلیکٹڈ ورکس آن فارن افیئرز اینڈ سکیورٹی پالیسی” پر مباحثہ کا اہتمام کیا گیا جس میں سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ آصف درانی اور بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط شریک ہوئے۔ تقریب میں ماہرین تعلیم، پریکٹیشنرز، سابق اور موجودہ پاکستانی سفارت کاروں، تھنک ٹینکس، طلباءاور اسلام آباد میں مقیم سفارتی کور کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ ڈی جی انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اور سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ہما بقائی عالمی اور علاقائی پیشرفت پر ایک مستند پاکستانی آواز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے کتاب کے پانچ اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے چین پاکستان شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کا چین پاکستان اقتصادی راہداری اور علاقائی مسائل پر قریبی تعاون ہے۔ سہیل محمود نے سی پیک، پاکستان کے سیاسی منظر نامے، افغانستان کی صورتحال اور تنازعہ جموں و کشمیر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان اور عالمی منظر نامے سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کو فروغ دینے میں کردار پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کتاب خاص طور پر موجودہ عالمی ماحول کے اہم مسائل پر روشنی ڈالتی ہے جس میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت اور خطے پر اس کے اثرات اور پاکستان کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی مخصوص کیمپ کے ساتھ صف بندی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔تاہم انہوں نے اس طرح کے توازن کو برقرار رکھنے سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور تمام متعلقہ اداروں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان کے خصوصی نمائندہ آصف درانی نے پاکستان کو درپیش متنوع چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع تالیف کے طور پر کتاب میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ یہ چیلنجز دوطرفہ، علاقائی اور عالمی جہتوں پر محیط ہیں، جن میں سی پیک اور پاکستان کی سلامتی جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، کتاب پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے مسائل کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے اور گزشتہ پانچ سالوں میں بین الاقوامی ترقی کو سمجھنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ سابق سفیر عبدالباسط نے پاکستان کی پیچیدہ خارجہ پالیسی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موجودہ لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ کے طور پر کتاب کی تعریف کی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک کی خارجہ پالیسی کے واضح مقاصد ہیں لیکن اس کی خارجہ پالیسی کے اختیارات کو موئثر طریقہ سے استعمال کرنے میں بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کیمپوں میں کام کرتی ہے، پاکستان دیگر اقوام کی طرح چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر ہما بقائی نے اس موقع پر کہا کہ متعدد چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان نے اپنے بنیادی مفادات کا موثر طریقہ سے تحفظ کیا ہے۔ اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین خالد محمود اور ڈاکٹر نیلم نگار نے بھی خطاب کیا۔ مباحثہ میں پاک بھارت تعلقات کی پیچیدہ صورتحال، مشرق وسطیٰ کے واقعات، غزہ   پر اسرائیل کی جارحیت کو بھی بیان کیا گیا ۔