حکومت عوام کوصحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل برائے کا لا رہی ہے،گورنر پنجا ب

23

لاہور۔14نومبر (اے پی پی):گورنر پنجا ب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی طرز زندگی اپنا کر ذیابیطس سمیت دیگر امرا ض سے بچا سکتا ہے،روزہ بیماریوں کے خلاف ڈھال ہے،ذیابیطس سے بچائو کے لیے آ گاہی مہم تیز کرنے کی ضرورت ہے،بروقت تشخیص سے اس مرض سے بچائو ممکن ہے،اس سلسلہ میں میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا ،حکومت عوام کوصحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز گورنر ہائوس لاہور میں ذیابیطس کے عالمی دن کے حوالے سے پاکستان انڈو کرائن سوسائٹی اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے دوران کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم،پرنسپل پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فریدالظفر،صدرانڈوکرائن سوسائٹی ڈاکٹر عباس رضا،پروفیسر ڈاکٹر عزیزالرحمن،پروفیسر ڈاکٹر ساجد عبداللہ،ڈاکٹر طارق وسیم پروفیسر ڈاکٹر اکمل فیض بھٹی،ڈاکٹر ثمینہ اقتدار ،ڈاکٹر وفا قیصر،مختلف مکتبہ فکر کے افراد ،سول سوسائٹی کے ممبران،مقامی و بین الاقوامی فارما سوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان،طلبہ و طالبات اور شعبہ طب سے دلچسپی رکھنے والے افراد سمیت شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔گورنرپنجاب نے کہا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے،اس موذی مرض سے نجات کے لئے ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنے،سادہ غذا کا استعمال اور ایکسر سائز کو معمول بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسلامی طرز زندگی اور نبی پاک ۖ کی سنت پر عمل پیرا ہو جائیں تو ذیابیطس سمیت دیگر بہت سی بیماریوں سے بچائو ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ روزہ بیماریوں سے بچائو اور صحت و تندرستی کے حصول کے لیے ایک ڈھال ہے،میڈیکل سائنس بھی اب اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ خالی پیٹ رہ کر کھانے کے دوران وقفہ سے نہ صرف جسم تندرست اور توانا ہوتا ہے بلکہ شوگر،بلڈ پریشر سمیت دیگر امراض کے خلاف بچائو کا ذریعہ بھی بنتا ہے ۔گورنر پنجاب نے کہا کہ شوگر انسانی خون میں شامل ہوکر جسم کے ہر عضو کو متاثر کرتی ہے.خاص طور پر بینائی، دل، جگر، گردے متاثر ہوتے ہیں، شوگر کو کنٹرول نہ کیا جائے تو پیچیدگیاں بڑھتی ہیں،یہ خاموش قاتل ہے،اس سے بچائو کے لیے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے،ہمارے جسم کا بھی ہم پر حق ہے،ہم پر فرض ہے کہ اس جسم کا بھی حق ادا کریں اور اس کو صحت و تندرست رکھنے کے لیے اعتدال کا طریقہ اختیار کریں،شوگر لا علاج نہیں ہے ،بروقت تشخیص سے ذیابیطس کے امراض سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ایک حوالہ دیتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ میں اپنے ایک دوست کو جانتا ہوں جنہوں نے طرز زندگی کو تبدیل کر کے شوگر کو شکست دی اور آج وہ نارمل زندگی گزار رہا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ اس مرض سے بچائو کے لیے میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا اور مرض سے بچائو کے لیے آگاہی فراہم کر کے حکومت کا ساتھ دینا ہو گا۔انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ اس مرض کے بچائو کے لیے آگاہی سیمینار ،ورکشاپس منعقدہ کریں تا کہ مرض سے بچائو ممکن بنایا جا سکے۔مجھے خوشی ہے کہ پاکستان انڈو کرائن سوسائٹی اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے اشتراک سے یہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا اور شہریوں کے لیے خون کے مفت ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کی گئی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے حکومت مکمل طور پر آگاہ ہے،بدقسمتی سے ماضی میں صحت کے شعبے پر توجہ نہیں دی۔نگراں حکومت صحت کے شعبے میں بہترین کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر کے امراض میں اضافہ کی بڑی وجہ ہمارا طرز زندگی ہے،ہم نے سادہ غذا چھوڑ کر فاسٹ فوڈ کا استعمال شروع کردیا،ماڈرن ازم کے نام پر پیدل چلنا ترک کیا، کرکٹ، ہاکی، فٹ بال جیسے کھیلوں کی جگہ ویڈیو گیم کھیلنا شروع کردیئے جس کی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام کمزور ہو رہا ہے۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان شوگر کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے جبکہ شرح کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ایشیا میں چین،بھارت اور پاکستان میں شوگر زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔پاکستان میں تقریبا 33 فیصد آبادی شوگر کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ1921 سے قبل ٹائپ ون ذیابیطس کو موت کا پروانہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب ان مریضوں کے لیے بھی انسولین دستیاب ہے،تھوڑی سی احتیاط سے ذیابیطس کے مریض خود کو اس خطرے بچا سکتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ ذیابیطس کا شکار افراد کے لیے لائف مینجمنٹ بہت ضروری ہے۔ کھانے کی مقدار کم کریں اور مقررہ وقت پر کھانے کو معمول بنائیں۔خود کو ٹینشن سے دور رکھیں،اپنی نیند پوری کریں،روزانہ سات سے آٹھ ہزار قدم پیدل چلیں تو ذیابیطس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔قبل ازیں گورنرپنجاب محمد بلیغ الرحمن کی قیادت میں الحمرا آرٹس کونسل سے گورنر ہائوس لاہور تک ذیابیطس سے آگاہی کے لیے واک کا انعقاد کیا گیا،آگاہی واک میں صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکر م،پرنسپل پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فریدالظفر،صدر انڈوکرائن سوسائٹی ڈاکٹر عباس رضا سمیت مختلف مکتبہ فکر کے افراد،سول سوسائٹی کے ممبران،مقامی و بین الاقوامی فارما سوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان،طلبہ و طالبات اور شعبہ طب سے دلچسپی رکھنے والے افراد سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس موقع پر گورنر پنجاب نے مختلف ملکی و غیر ملکی معروف فارما سوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے لگائے گئے اسٹالز کا دورہ کیا اور وہاں رکھی گئی ادویات کا معائنہ کیا۔گورنر پنجاب نے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس /سروسز ہسپتال لاہور کی جانب سے لگائے گئے بلڈ سکریننگ کیمپ میں اپنے خون کے ٹیسٹ بھی کروائے۔