وفاقی وزیر احسن اقبال کا اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں منعقدہ کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب

15

اسلام آباد، 27 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے منگل کے روز علاقائی اقتصادی انضمام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) میں منعقدہ کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا عنوان تھا “جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے مشرقی-مغربی اقتصادی راہداری کی افادیت کا جائزہ”تھا وفاقی  وزیر نے جنوبی اور وسطی ایشیا کو سرحد پار ربط سے جوڑ کر خطے کی معاشی صلاحیت کو کھولنے کے لیے پاکستان کے تزویراتی وژن کا خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا، “مشرقی،مغربی اقتصادی راہداری کا تصور نیا نہیں ہے”، اور تجویز دی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خواہش سے عمل کی طرف بڑھا جائے، اور اس کے لیے سیاسی عزم اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ راہداری وسطی ایشیا، افغانستان، ایران، پاکستان اور بھارت کو تجارت، نقل و حمل اور ڈیجیٹل رابطے کے ذریعے جوڑنے کا تصور پیش کرتی ہے، اور اسے پاکستان کی قومی حکمتِ عملی ‘اُڑان پاکستان’ کے تحت جیو-معاشی ترقی کے ایک کلیدی ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی گوادر کی بندرگاہ کو جدید بنانے، ایم ایل-1 ریلوے لائن کو وسعت دینے، اور افغانستان و وسطی ایشیا کے ساتھ سرحدی راستوں کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔تاہم، وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تجارت کے لیے علاقائی امن لازمی شرط ہے۔ انہوں نے کہا، “رابطہ کاری ایک ایسے ماحول میں پروان نہیں چڑھ سکتی جہاں جبر، قبضہ اور بالادستی کا رجحان ہو،” اور یہ دہرایا کہ “پاکستان پرامن بقائے باہمی  اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون  کا حامی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، “راہداریاں اس وقت فروغ نہیں پا سکتیں جب سرحدیں بند ہوں۔ منڈیوں تک رسائی اس وقت ممکن نہیں جب معاہدے معطل ہوں۔”انہوں نے پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو ایک کامیاب ماڈل قرار دیا، اور کہا کہ پاکستان اور چین کے تعاون نے ایک جدید ٹرانسپورٹ نظام، توانائی کے نظام کی بحالی، اور ٹھوس ترقی کو ممکن بنایا۔انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے علاقائی منصوبوں کی رہنمائی بھی انہی اصولوں — شفافیت، شمولیت اور اسٹریٹجک ہم آہنگی سے ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا، “پاکستان ایسے تمام شراکت داروں، علاقائی یا عالمی، کی شرکت کا خیرمقدم کرتا ہے، بشرطیکہ یہ تعاون باہمی احترام اور مشترکہ مفاد پر مبنی ہو۔”