لاہور، 11 جولائی(اے پی پی): محکمہ زراعت پنجاب، فوڈ سیکیورٹی اینڈ ایگریکلچر سنٹرآف ایکسیلنس (فیس) اور پاکستان ایگریکلچرل کولیشن (پیک) کے باہمی اشتراک سے “موجودہ زراعت کی صورتحال اور سال 2025-26 کے لیے حکمت عملی” کے موضوع پر ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی تھے، جبکہ پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت اسامہ خان لغاری، سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو، پیک کے نمائندہ کاظمی اور فیس کے چیف آپریٹنگ آفیسر حسن اکرم نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ مشاورتی سیشن کا مقصد زرعی شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے موجودہ صورتحال پر مشاورت اور آئندہ مالی سال کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں زرعی پیداوار میں اضافہ، منافع میں تسلسل اور کسانوں کو ان کی فصلوں کی صحیح قیمت دلوانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیر زراعت نے بتایا کہ حکومت پنجاب “ٹرانسفارمنگ ایگریکلچر پنجاب” پروگرام کے تحت زرعی شعبہ کی مکمل تبدیلی کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے 30 ارب روپے کا بلا سود قرضہ، زرعی مشینری کی رینٹل بنیادوں پر فراہمی اور اگلے سال 10 نئے “ایگری مالز” کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہائی ایفیشنسی ایریگیشن سسٹم، تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بیجوں کی فراہمی جیسے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔ کسان کارڈ پروگرام کے تحت اب تک 5 لاکھ 25 ہزار کسانوں کو 57 ارب روپے کا قرض فراہم کیا گیا، جس میں سے 98 فیصد نے قرض واپس بھی کر دیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری زراعت اسامہ خان لغاری نے کہا کہ کسان کارڈ پروگرام کی بدولت ان پٹ کاسٹ میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے زرعی تحقیق پر توجہ دینے، لاگت میں کمی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیا۔ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ پنجاب ملک کی زرعی پیداوار میں 70 فیصد حصہ دار ہے، اور زرعی ترقی کے لیے کارپوریٹ فارمنگ اور کلسٹر فارمنگ جیسے جدید ماڈلز کو اپنانا ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ ڈی جی گرین کارپوریٹ انیشیٹو پاکستان، میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کو کسان کی پیداوار کی قیمت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا ہو گا۔ فارم میکنائزیشن کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا کلیکشن اور زرعی ماہرین کی شراکت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔











