لاہور، 24 جولائی (اے پی پی): زرعی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے چین کی مختلف زرعی کمپنیوں پر مشتمل 18 رکنی کاروباری وفد نے زراعت ہاؤس لاہور کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت چینی نمائندہ مسٹر گویوگو نے کی۔ اس وفد میں زرعی میکانائزیشن، سمارٹ فارمنگ اور ایگریکلچرل ڈیجیٹلائزیشن سے وابستہ کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے چینی مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور وفد کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت و لائیوسٹاک سید عاشق حسین کرمانی بھی موجود تھے جنہوں نے چینی کمپنیوں کو پنجاب میں زرعی سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وزیر زراعت نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب زرعی شعبے کی میکانائزیشن اور جدت کیلئے پرعزم ہیں۔ “چین دنیا میں زرعی ٹیکنالوجی کا رہنما ہے اور پنجاب کو پاکستان کی فوڈ باسکٹ کی حیثیت حاصل ہے۔ ہم چین کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،”افتخار علی سہو نے کہا کہ وفد کے ساتھ ہونے والا سیشن انتہائی معلوماتی رہا اور چینی کمپنیوں کی جانب سے جدید زرعی ترقی میں دلچسپی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کو بلا سود قرض بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی اسٹرٹیجک پراجیکٹس میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت جدید ہارویسٹرز، ڈرونز اور زرعی آلات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی زرعی ٹیکنالوجی پنجاب میں ترقی کا نیا باب کھول سکتی ہے اور سمارٹ فارمنگ کے شعبے میں تعاون ناگزیر ہے۔











