لاہور، 7 اگست(اے پی پی): وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں، 14 اگست کو کسی بھی فساد گروپ کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ وہ “ہفتہ اقلیت” کارواں کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں جہاں صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش اروڑہ بھی موجود تھے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ہفتہ اقلیت منایا جا رہا ہے تاکہ جھنڈے میں سفید رنگ کی نمائندگی کرنے والے پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مینارٹی کارڈ کا اجرا، گرجا گھروں، گوردواروں اور مندروں کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز کی فراہمی جیسے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 14 اگست کو ہمیشہ قومی وحدت کا دن سمجھا گیا ہے، لیکن فساد پھیلانے والے عناصر اب اسے احتجاج کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے 14 اگست کو افراتفری پھیلانے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ملک کی ترقی اور سفارتی کامیابیوں سے خائف ہے، اس لیے وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست کا احتجاجی اعلان بھی مکمل طور پر ناکام ہوا، اور اب 14 اگست کو دوبارہ ناکام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش اروڑہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز اقلیتوں کو برابری کے حقوق دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق، 50 ہزار مستحق اقلیتی خاندانوں کے لیے اقلیتی کارڈ جاری کیا گیا ہے اور متعدد عبادت گاہوں کی بحالی پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بشپ آف لاہور ندیم کامران کی قیادت میں نکالی گئی پرامن ریلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریلی پوری دنیا کو پیغام دیتی ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ملک ہے۔ رمیش اروڑہ نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو اپنی عبادات کی مکمل آزادی حاصل ہے، اور یہ ایک پرامن اور محفوظ ریاست ہے جہاں تمام مذاہب کے افراد باہمی ہم آہنگی سے زندگی گزار رہے ہیں۔











