اسلام آباد،11اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر بجلی سردار اویس خان لغاری نے کہا ہے کہ کرپٹو کونسل ، گرین فیلڈ منصوبوں سمیت کسی کو بھی سبسڈائزڈ نرخ پر بجلی فراہم نہیں کرسکتے ، سات سے ساڑھے سات سینٹ پر ہمارے پاس مارجنل پاور موجود ہے، یہ بجلی تمام صنعتوں کو فراہم کرنے کی پروپوزل پر آئی ایم ایف سے بات چیت ہورہی ہے ، 90 فیصد صارفین کو پہلے ہی سبسڈی دے رہے ہیں، 200 یونٹ کو بڑھا کر 300 یونٹ تک سبسڈی دینے کے لئے 275 ارب کی اضافی رقم درکار ہے ،موجودہ صورتحال میں اس سبسڈی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ابھی تک کرپٹو کونسل کو کسی قسم کا ریٹ یا کوئی چیز آفر نہیں کی،7 ہزار میگاواٹ بجلی سرپلس ہے ، مارجنل پرائس پر ایگریمنٹل پیکج کےذریعے انڈسٹری کو فراہم کرنے کی آفر دی ہے تا ہم کسی بھی سبسڈائز ریٹ پر کرپٹو ، گرین فیلڈ پراجیکٹ یا انڈسٹری کو سبڈائز بجلی نہیں دےسکتے ۔ سات سے ساڑھے سات سینٹ پر ہمارے پاس مارجنل پاور دستیاب ہے ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ۔ گرڈ کے استحکام کے لئے ایک پرپوزل دی ہوئی ہے ، کرپٹو کونسل کے لئے کسی قسم کی آفرریکارڈ پر موجود نہیں ہے ۔ ڈاکٹر اختیار بیگ نے ضمنی سوال میں کہا کہ حکومت نے کرپٹو کونسل کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ 2ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی مائننگ کے لئے دیں گے ۔ یہ بھی طے نہیں ہوا کہ یہ کونسل قانونی ہے یا غیر قانونی ہے ۔ 2ہزار میگا واٹ ایکسپورٹ انڈسٹری کو دے دیتے ہیں تو ایکسپورٹ اور روزگار میں اضافہ ہوگا ۔ نعیمہ کشور نے ضمنی سوال پر کہا کہ جب 200 سے ایک یونٹ بھی بڑھ جاتی ہے تو اس سے چھ ماہ کے پیسے وصول کیے جاتے ہیں ،200 یونٹ کو 300 یونٹ کیا جائے ۔ اس سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا ۔ جس پر وفاقی وزیر بجلی سردار اویس لغاری نے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ صارفین ہیں، ان میں سے ایک کروڑ 85 لاکھ صارفین کو 90 فیصد تک سبسڈی دی جارہی ہے ۔200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 70فیصد سبسڈی دی جارہی ہے ۔ اگر ہم 200 یونٹ کو بڑھا کر 300 یونٹ کر کے انہیں سبسڈی دیں تو 275 ارب کی اضافی سبسڈی بنتی ہے ہمارے معاشی حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم 275 ارب کی مزید سبسڈی دے سکیں۔











