لاہورـ 5 اکتوبر (اے پی پی):
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت 3 گھنٹے طویل ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے لیے مقرر کردہ Key Performance Indicators (KPIs) پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ الیکٹرو بس پراجیکٹ اور فلڈ سروے کو ڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں الیکٹرو بس سروس کی نگرانی، بس اسٹینڈز کی فراہمی، مسافروں کے لیے سہولیات اور ڈسپلن یقینی بنایا جائے۔مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں شفاف اور تیز ترین فلڈ سروے کو ممکن بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستند ڈیٹا حکومت کے فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے، لہٰذا مانیٹرنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں سرکاری زرعی اراضی پر گندم کی کاشت کے لیے محکمہ زراعت کو ہدایت دی کہ کاشتکاروں کو معیاری بیج فراہم کیا جائے۔انہوں نے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں، بالخصوص بچوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے، ایسے واقعات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے حکم دیا کہ سرکاری و نجی سکولوں کے سامنے روڈز پر زیبرا کراسنگ اور رفتار کم کرنے کے بورڈز نصب کیے جائیں تاکہ طلبہ کی محفوظ آمد و رفت یقینی ہو۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں 5000 سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مانیٹرنگ، دیکھ بھال اور مرمت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہسپتالوں کے اچانک دورے کرنے اور سروسز کے لیے ناجائز رقم طلب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات دیے۔مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب بھر میں روٹی کے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صفائی میں کوتاہی یا عملے کی کمی کا فوری ازالہ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے صفائی کے لیے درکار عملہ بھرتی کرنے کی منظوری دے دی اور واضح کیا کہ شہروں و دیہات کی صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔آخر میں مریم نواز شریف نے بہترین کارکردگی دکھانے والے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو شاباش دی جبکہ غیر نمایاں کارکردگی والے افسران کو آئندہ اجلاس سے قبل اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔











