اسلام آباد، 29اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کے اجلاس سے خطاب کیا، جس کی میزبانی روسی فیڈریشن میں ہوئی۔
اپنے خطاب میں، وزیر نے ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق قانونی اور انصاف کے نظام کو جدید بنانے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کو پورا کرنے کے لیے انصاف کی فراہمی میں جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی لاناضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے قانون اور انصاف کی وزارت کی طرف سے کئے گئے ان کئی اہم اقدامات کے بارے میں بتا یا جن میں نوآبادیاتی دور کے فرسودہ قوانین کا آئینی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق جائزہ لینے اور ان کو جدید بنانے کے لیے جامع قانونی اصلاحات کا ایجنڈا،پاکستان کوڈ کا آغاز شامل ہیں ۔ پاکستان پینل کوڈ ایک ڈیجیٹل قانونی ذخیرہ ہے جو شہریوں، وکلاء اور محققین کے لیے وفاقی قوانین، آرڈیننسز اور قواعد تک آن لائن رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاؤہ ان اصلاحات اور اقدامات میں کیس فائلنگ اور ٹریکنگ کو رواں بنانے کے لئے کیس اسائنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سسٹم (سی اے ایم ایس) متعارف کروانا متبادل تنازعات کے حل (سے ڈی آ ر) کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی ثالثی اور ثالثی مرکز (آئی ایم اے سی) کا قیام بھی شامل ہیں ، ثبوت کے قانون میں ترامیم (قانون شہادت آرڈر، 1984) موثر عدالتی کارروائی کو آسان بنانے کے لیے ویڈیو لنک گواہی کی اجازت دیتا ہے۔
وزیر نے انصاف اور قانونی اصلاحات کے شعبے میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایس سی او لیگل کوآپریشن فورم اور ایک مشترکہ لیگل ٹریننگ اکیڈمی کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ استعداد کار میں اضافہ ہو، بہترین طریقوں کا اشتراک کیا جا سکے اور سائبر کرائم، ای کامرس اورا ے آ ئی ریگولیشن جیسے ابھرتے ہوئے قانونی چیلنجوں بارے ماڈل قوانین تیار کیے جا سکیں۔
سینیٹر تارڑ نے علاقائی کاروبار کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ماڈل ایس سی او سرمایہ کاری اور ثالثی کے فریم ورک کو تیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کے لیے باہمی قانونی مدد کے مضبوط طریقہ کار پر زور دیا۔
انہوں نے آ خر میں ا س بات پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن انصاف کی انتظامیہ میں سب سے زیادہ تبدیلی لانے والی اختراع کاری ہے، جس سے شفافیت، کارکردگی، اور شہریوں کے لیے بہتر رسائی ممکن ہے۔











