کوئٹہ،20نومبر(اے پی پی): رکن قومی اسمبلی وبلوچستان وومن انڈورکرکٹ ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاہے کہ بلوچستان کے حالات کھیلوں کے فروغ سے بہتر بنائے جاسکتے ہیں، نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے سامنے لانے کی ضرورت ہے خواتین کو کھیلوں میں بھرپور سپورٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے، فٹسال گرانڈز میں سے ایک صرف خواتین کیلئے مختص کیا جانا چاہئے تاکہ وہ محفوظ ماحول میں اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جمعرات کوبلوچستان وومن انڈور کرکٹ ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب کوئٹہ میں منعقد ہوئی، جہاں پیٹرن چیف اور رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے عہدیداروں سے حلف لیا۔ تقریب میں خواتین کھلاڑیوں نے اپنے سوالات بھی کیے جن کے جوابات نوابزادہ جمال رئیسانی نے دئیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کھیلوں کے فروغ سے بہتر بنائے جاسکتے ہیں، نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل ہی وہ راستہ ہے جو نوجوانوں کیلئے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ خواتین کو کھیلوں میں بھرپور سپورٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے، فٹسال گرانڈز میں سے ایک صرف خواتین کیلئے مختص کیا جانا چاہئے تاکہ وہ محفوظ ماحول میں اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے بتایا کہ وہ خود فٹبال پلیئر رہے ہیں اور کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی سلیکشن میں بلوچستان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، تاہم نوجوان کھلاڑی محنت کریں تو دیگر صوبوں میں بھی ان کیلئے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے حلقے میں 17 فٹسال گرانڈز کی منظوری دی ہے اور جلد ان کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔
رئیسانی نے واضح کیا کہ وہ صوبائی حکومت یا محکمہ کھیل کا حصہ نہیں، لیکن صوبے میں مزید اسپورٹس گرانڈز تعمیر کرنا ناگزیر ہے اور محکمہ کھیل کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تقریب میں انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان کے اس وعدے کا بھی ذکر کیا کہ بچیوں کو اسکوٹیز فراہم کی جائیں گی، تاہم شرط رکھی گئی کہ وہ خود انہیں چلائیں۔ نوابزادہ جمال خان نے اظہارِ افسوس کیا کہ اسکوٹیز اب تک خواتین کھلاڑیوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیر اعلی سے اس حوالے سے باضابطہ درخواست کریں گے تاکہ خواتین کھلاڑیوں کو جلد اس سہولت کی فراہمی ممکن ہوسکے۔











