اقوامِ متحدہ، 19 دسمبر ( اے پی پی):پاکستان نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے لیبیائی قیادت اور لیبیائی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ناگزیر ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوامِ متحدہ کے لیبیا سپورٹ مشن (یو این ایس ایم آئی ایل) سے متعلق بریفنگ کے دوران، پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ لیبیا کا مستقبل خود لیبیائی عوام نے ہی طے کرنا ہے، جس میں نہ تو خودمختاری کی کوئی کمی ہونی چاہیے اور نہ ہی قومی مقصد میں کسی قسم کی تقسیم۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ پاکستان ان تمام کوششوں کے لیے پرعزم ہے جو لیبیائی عوام کو ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کے حصول کے قابل بنائیں۔
انہوں نے کہا، اس مقصد کے حصول کے لیے ہم سلامتی کونسل کے اراکین اور وسیع تر عالمی برادری کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون جاری رکھیں گے۔
پاکستانی مندوب نے لیبیا کی بدلتی ہوئی سیاسی، سلامتی اور سماجی و معاشی صورتِ حال کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ کو اس کے واضح اور جامع تجزیے پر سراہا۔ انہوں نے سیاسی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی مسلسل اور ہمہ جہت کوششوں کی بھی تعریف کی، جن میں بین الاقوامی فالو اپ کمیٹی برائے لیبیا کے تحت تازہ اقدامات شامل ہیں۔
اگرچہ یو این ایس ایم آئی ایل کی معاونت سے تیار کردہ سیاسی روڈ میپ مفاہمت اور لیبیا کے طویل عبوری دور کے خاتمے کے لیے ایک قابلِ اعتبار راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم پاکستان نے خبردار کیا کہ اس پر عمل درآمد میں تعطل عوامی اعتماد کو مجروح کر سکتا ہے۔سفیر عثمان جدون نے کہا کہ طے شدہ اوقاتِ کار پر پیش رفت نہ ہونے کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے، بالخصوص ہائی نیشنل الیکشن کمیشن میں تقرریوں اور انتخابی فریم ورک میں اصلاحات کے ذریعے۔ انہوں نے تمام لیبیائی فریقین پر زور دیا کہ وہ رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی قیادت میں منظم مذاکراتی عمل میں بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں بلدیاتی انتخابات کا کامیاب انعقاد جمہوری عمل میں لیبیائی عوام کی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طرابلس میں کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی کوششیں ایک ٹھوس آغاز کی نمائندگی کرتی ہیں، تاہم اس کے لیے مزید اعتماد سازی کے اقدامات، طے شدہ سلامتی انتظامات پر عمل درآمد، اور سلامتی کے شعبے میں اصلاحات کی مسلسل پیش رفت ناگزیر ہے۔
قومی یکجہتی کے لیے معاشی استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، سفیر عثمان جدون نے حالیہ مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جن میں متحدہ ترقیاتی پروگرام پر اتفاق، کرنسی کی واپسی کی کارروائیاں، اور تیل کے شعبے میں شفافیت میں اضافہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک متحدہ قومی بجٹ اور مضبوط معاشی نظم و نسق کے لیے مسلسل تعاون طویل المدتی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
سفیر عثمان نے لیبیا کے منجمد اثاثوں کے تحفظ اور انہیں لیبیائی عوام کے فائدے کے لیے بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں لیبیائی انویسٹمنٹ اتھارٹی کا مالیاتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ لیبیا کو درپیش چیلنجز سنگین ہیں، تاہم وہ ناقابلِ حل نہیں، اور مسلسل عزم کے ساتھ ایک متحد، مستحکم اور پُرامن مستقبل کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔











