لاہور،18 دسمبر (اے پی پی): ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنی مجوزہ ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں اور پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے درمیان ہونے والی کامیاب بات چیت کے نتیجے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اقدامات پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ مشترکہ بیان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی بھرپور تائید کا اعلان کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق ٹریفک آرڈیننس 2025 پر حکومتی نکتہ نظر کی تائید کرتے ہوئے اس پر مشترکہ نظرِثانی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی صنعت کی بہتری اور مسائل کے حل کے لیے چار کمیٹیوں—گڈز ٹرانسپورٹ کمیٹی، منی مزدا ٹرانسپورٹ کمیٹی، پبلک ٹرانسپورٹ کمیٹی اور اسٹاف ڈیوٹی وہیکل کمیٹی،کی تشکیل کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جن کی سفارشات مشترکہ طور پر تیار کی جائیں گی۔ ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ پورے ملک کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ پنجاب کی طرز پر مذاکرات خوش آئند قدم ہیں اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ کے رویے اور سوچ کو سراہا۔ انہوں نے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ٹرانسپورٹرز کی تجاویز اعلیٰ قیادت تک پہنچائیں۔ اعلامیے کے مطابق آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے نمائندے جلد لاہور کا دورہ بھی کریں گے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز سے ملاقات کے بعد چار مشترکہ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو پورا سال ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ مریم نواز پر ٹرانسپورٹرز نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، ڈیڈلاک کسی کے مفاد میں نہیں، بہتری بات چیت سے ہی آتی ہے اور وفاق و کراچی میں بھی مذاکرات سے مسائل حل ہوں گے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک سسٹم کو بہترین عالمی پریکٹسز کے مطابق بنایا جائے گا، سیفٹی اور آپریشنل سطح پر مضبوط نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرڈیننس کے بعد 21 لاکھ لائسنس بن چکے ہیں، جبکہ پہلے بڑی تعداد میں لوگ بغیر لائسنس گاڑیاں چلا رہے تھے۔ ان کے مطابق اصلاحاتی عمل کی یہ پہلی قسط ہے، بہتری کا سفر جاری رہے گا اور بادامی باغ اور چنیوٹ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ سینئر صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل معیار کا جدید بس ٹرمینل بنایا جائے گا اور چار جدید وِکس اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈرائیورز کا بلاوجہ چالان نہیں کیا جائے گا اور ٹرانسپورٹ کے لیے نئی اسکیم لانے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹرانسپورٹ کو عالمی معیار پر استوار کرنے، جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور ای چالان سمیت ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے فیصلے بھی کیے ہیں۔











