پاکستان لیجسلیٹو، الیکٹورل، ڈیجیٹل گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ منصوبے کے تحت پروجیکٹ بورڈ ریویو اجلاس کا انعقاد

9

اسلام آباد، 18 دسمبر ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام  کے ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق، وزارتِ اقتصادی امور کے جوائنٹ سیکریٹری محمود خان، پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایا، یورپی یونین کے گورننس و ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ کے برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈک سمیت دیگر  شخصیات کی موجودگی میں پاکستان لیجسلیٹو، الیکٹورل، ڈیجیٹل گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ  منصوبے کے تحت پروجیکٹ بورڈ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید خان نے بتایا کہ اجلاس میں گزشتہ برس کے دوران مختلف منصوبہ جاتی اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ سال 2026 کے لیے مجوزہ حکمتِ عملی اور ترجیحات پر بھی غور کیا گیا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن کی مسلسل اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں صنفی تفاوت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو 2018 میں 11.8 فیصد تھی اور اب 2025 میں کم ہو کر 7.1 فیصد رہ گئی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ یہ پیش رفت خواتین کے لیے قومی شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کی چار مرحلہ وار مہمات کے باعث ممکن ہوئی ہے، جبکہ اس وقت پانچویں مرحلے کے تحت ملک کے 62 اضلاع میں مہم جاری ہے جہاں صنفی فرق 10 فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی شرح مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں 27 فیصد جبکہ مرد ووٹرز میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

 فافن  کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن روزانہ اوسطاً 7,599 نئے ووٹرز انتخابی فہرستوں میں شامل کر رہا ہے، جن میں خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کی شمولیت پر مبنی ووٹر رجسٹریشن مہم کے پانچویں مرحلے کی معاونت کے لیے  جنوری 2026 سے 15 اضلاع میں سرگرمیوں کا آغاز کرے گا، جس کے ذریعے 25 ہزار خواتین کے قومی شناختی کارڈز کے اندراج میں سہولت فراہم کی جائے گی۔سیکریٹری نے مزید کہا کہ  الیکشن کمیشن نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعدx متعارف کرایا ہے، جس کے تحت الیکشن کمیشن خطے کے اولین انتخابی اداروں میں شامل ہو گیا ہے۔ کی جانب سے اس مقصد کے لیے قانونی و تکنیکی ماہر کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ  کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں  زور طبقات کے لیے جینڈر ڈیسک بھی فعال ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کی جانب یہ بھی  بتایا گیا کہ عوامی آگاہی، جعلی خبروں کی روک تھام اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے سوشل میڈیا پر مؤثر موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ معذور افراد کے لیے بریل تھری ڈی مواد اور اشاروں کی زبان میں معلوماتی ویڈیوز بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بھی ایک اہم منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کے لیے ملک بھر میں ہزاروں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے، جس کے نتیجے میں 2024 کے عام انتخابات میں نوجوان ووٹرز کا ٹرن آؤٹ نمایاں طور پر بڑھا۔اجلاس کے اختتام پر کے ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے  منصوبے کی سال 2025 کی رپورٹ پیش کی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔

 تقریب سے  خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا  کہ یو این ڈی پی  الیکشن کمیشن   آف  پاکستان کے ساتھ   اشتراک کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے انہوں نے مزید کہا  کہ یو این ڈی پی الیکشن کمیشن کے ساتھ تکنیکی معاونت کو  منصوبے کے تحت 2025سے 2029 تک جاری رکھے گا۔