اقوامِ متحدہ، 09 دسمبر (اے پی پی): تیزی سے بگڑتی ماحولیاتی صورتِ حال اور سمندری خطّوں میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر (UNCLOS) کی آفاقیت (universality) کا دفاع کرے۔
پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکرٹری، ذوالفقار علی نے جنرل اسمبلی کے سالانہ مباحثے—”سمندر اور قانونِ سمندر”—میں قومی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے اہم عالمی بحری راستوں کے سنگم پر رکھتی ہے،اور اس لیے سمندری خطّوں کی کھلی، مستحکم اور پرامن نوعیت پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سمندروں پر بالادستی قائم کرنے یا یکطرفہ دعووں کے ذریعے ساحلی ریاستوں کے حقوق کو کمزور کرنے کی ہر کوشش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سمندر تعاون، قانونی عملداری اور منصفانہ ترقی کے خطّے ہونے چاہییں۔
انہوں نے نے خبردار کیا کہ دنیا سمندری ماحولیاتی بحرانوں کے ایسے سلسلے کا سامنا کر رہی ہے جو عالمی غذائی سلامتی، ساحلی استحکام اور سمندری نظم و ضبط کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے UNCLOS کو ‘‘سمندروں اور بحری خطّوں کا آئین’’ قرار دیا اور اس بات کا خیر مقدم کیا کہ بی بی این جے (BBNJ) معاہدہ جلد نافذ العمل ہونے والا ہے، جس پر پاکستان نے رواں سال دستخط کیے۔ انہوں نے عالمی سمندری وسائل کے حوالے سے منصفانہ فائدہ رسانی، استعداد کار کی تعمیر، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اصولوں کی توثیق کی، جو ‘‘ نوعِ انسانی کے مشترکہ ورثے’’ کے تصور کے مطابق ہیں۔
ذوالفقار علی نے UNCLOS کے متعلقہ اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک گہرے سمندر کے معدنی وسائل کے تجارتی استحصال کے لیے جامع قواعد و ضوابط طے نہیں ہو جاتے، پاکستان‘‘ ایریا’’ میں معدنیات کے تجارتی استحصال سے متعلق کسی بھی ورک پلان کی منظوری کی مخالفت کرتا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے سمندروں کو امن، مشترکہ خوشحالی اور جامع ترقی کے خطّے بنانے کے لیے ازسرنو عالمی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف بین الاقوامی قانون کی مضبوط پاسداری اور اجتماعی ذمہ داری ہی دنیا کے سمندروں کو مزید زوال سے بچا سکتی ہے اور تمام اقوام کے مشترکہ بحری مستقبل کا تحفظ کر سکتی ہے۔











