ملتان، 02 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت مستحق شہریوں کو بروقت اور شفاف امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سماجی تحفظ اور صحت کے شعبے میں فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اصلاحات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
نشتر ہسپتال ملتان کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر کیا گیا، جس کا مقصد صحت کی سہولیات اور فلاحی منصوبوں کا جائزہ لینا ہے تاکہ کم آمدنی والے مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نشتر ہسپتال پاکستان کے بڑے طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کو بھی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال مہنگے طبی علاج کے محتاج مریضوں کی معاونت میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال کا بجٹ 10 ارب روپے سے بڑھا کر 14 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ طبی گرانٹس 3 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ فی مریض علاج کی حد بھی 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دی گئی ہے تاکہ سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو سہولت مل سکے۔
سید عمران احمد شاہ کے مطابق جنوری 2026 تک نشتر ہسپتال میں پاکستان بیت المال کے تحت تقریباً 4 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا جس پر 62 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ اب تک 600 سے زائد مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔
گورننس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل والٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 60 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جا چکی ہیں، جبکہ مارچ تک تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائیں گی، جس سے کرپشن اور عوامی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بیت المال شہریوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے تاکہ انہیں معاشرے کا کارآمد رکن بنایا جا سکے، اور حکومت غربت کے خاتمے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔











