ملتان: 30 مارچ (اے پی پی) “دماغ اور جسم کی شفایابی”کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں بریسٹ کینسر کے نفسیاتی و طبی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تقریب میں ماہر امراض کینسر ڈاکٹر اعجاز مسعود، ایڈوائزر محمد حسین ڈیہڑ، سینیئر مینجر میرب لودھی، کلینیکل سائیکالوجسٹ منیزہ منظور اور ڈائریکٹر پروٹوکول نیشنل اسمبلی سیال احسن عباس سمیت دیگر معززین شریک ہوئے۔
ڈاکٹر اعجاز مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ بریسٹ کینسر کے مؤثر علاج کے لیے ملٹی موڈیلٹی اپروچ ناگزیر ہے، جبکہ غلط اور غیر سائنسی مشورے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ بروقت تشخیص کے لیے سالانہ ٹیسٹ ضرور کروائیں تاکہ بیماری کو ابتدائی مراحل میں قابو کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگا علاج بھی مناسب حکمت عملی کے ذریعے غریب مریضوں کے لیے ممکن بنایا جا سکتا ہے اور اب تک ہزاروں مریضوں کو مکمل طور پر مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق کینسر کے مریض اکثر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث نفسیاتی معاونت نہایت ضروری ہے۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ منیزہ منظور نے کہا کہ سائیکالوجیکل سپورٹ مریض کی صحت یابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ کینسر کے علاج میں آنکولوجسٹ، سرجن، فزیشن اور دیگر ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔س
یمینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سوشل ورکرز مریضوں کو مفت علاج اور ادویات تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو معاشرے میں صحت کی سہولیات کو عام کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔











