نوجوانوں کو علامہ محمد اقبال کے فلسفے کی گہری آگاہی اور جامع فہم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ان کا لازوال پیغام ایک ترقی یافتہ اور متحرک معاشرے کے قیام کے لیے فکری روشنی اور روحانی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ

12

لاہور:25 اپریل ( اے پی پی ) سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو علامہ محمد اقبال کے فلسفے کی گہری آگاہی اور جامع فہم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ان کا لازوال پیغام ایک ترقی یافتہ اور متحرک معاشرے کے قیام کے لیے فکری روشنی اور روحانی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری نوجوانوں کے لیے عملی نمونہ ہے جو انہیں مقصدیت، خودی اور مثبت کردار کی طرف رہنمائی دیتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جامعہ اشرفیہ کے طلبہ سے بادشاہی مسجد کے اقبال ہال میں منعقدہ سیمینار بعنوان “فکرِ اقبال کی روشنی میں مدارسِ دینیہ کا کردار” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا حافظ اسد عبید اور مولانا حافظ زبیر حسن کے علاوہ جامعہ اشرفیہ کے پچاس طلبہ شریک ہوئے۔ اس موقع پر خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبد الخبیر آزاد، ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد شاہد حمید ورک اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ قبل ازیں وفد نے تاریخی بادشاہی مسجد کا دورہ کیا جہاں انہیں اس کے عظیم اسلامی ورثے، شاندار طرزِ تعمیر اور صدیوں پر محیط روحانی اہمیت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے محفوظ اسلامی نوادرات، نایاب مخطوطات، مقدس آثار اور برصغیر کی مسلم تہذیب سے وابستہ تاریخی اشیاء کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ان کے بہترین تحفظ، مسجد کی عظیم الشان مغل طرزِ تعمیر اور زائرین کے لیے کیے گئے عمدہ انتظامات کو سراہا۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مزید کہا کہ مدارسِ دینیہ اسلامی اقدار کے فروغ اور نئی نسل کی درست رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فکرِ اقبال کو اپناتے ہوئے طلبہ میں خودی، ذمہ داری اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ انہوں نے علماء و اساتذہ پر زور دیا کہ وہ روایتی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں کو بھی ہم آہنگ کریں تاکہ معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا حافظ اسد عبید نے کہا کہ مدارسِ دینیہ کو اپنی تعلیمی حکمتِ عملی کو فکرِ اقبال کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ طلبہ میں خودی، نظم و ضبط اور فکری بصیرت پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ فکرِ اقبال کردار سازی اور نوجوانوں کو دیانت اور مقصدیت کے ساتھ قومی خدمت کے لیے تیار کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا حافظ زبیر حسن نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی تعلیمات کو باقاعدہ طور پر دینی نصاب اور علمی مکالمے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام اتحاد، فکری بیداری اور دین و دنیا کے متوازن شعور کو فروغ دیتا ہے جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبد الخبیر آزاد نے خطبات اور علمی مباحث میں فکرِ اقبال کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اقبال کا تصور روحانیت کو عملی زندگی سے جوڑتا ہے، جو طلبہ کو ذمہ دار، باشعور اور باکردار شہری بنانے میں مددگار ہے۔ سیمینار کے اختتام پر پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔