وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل کی ملاقات، پاور ڈویژن میں توانائی اصلاحات پر تبادلہ خیال

10

اسلام آباد، 14 مئی ( اے پی پی ): وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی جرمن سفیر انّا لیپل سے ملاقات میں پاور ڈویژن میں توانائی اصلاحات اور  پاک-جرمن تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں 55 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔حکومت کا ہدف توانائی میں صاف ذرائع کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانا ہے، اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان مقامی و قدرتی توانائی ذرائع سے خاطر خواہ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

 اویس لغاری نے کہا کہ تقریباً 800 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے ۔

وفاقی وزیر  نے کہا کہ حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی۔گزشتہ سال پاکستان توانائی میں 70 فیصد تک خود کفالت کے قریب رہا۔ ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں حکومت وسطی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے 11 میں سے 3 ڈسکوز کی  نجکاری کر رہے ہیں ، آئندہ سال مزید ڈسکو شامل کی جائیں گی،بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم جدید توانائی نظام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں  نے کہا کہ لیسکو کے لیے  GIZ  تعاون سے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم منصوبہ زیر غور ہے،  ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے ۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان بزنس کونسل سمیت نجی شعبے کو سرمایہ کاری میں شامل کیا جا رہا ہے۔اس موقع پرجرمن مالیاتی اداروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کا اعادہ کیا گیا۔پاکستان-جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک کی تشکیل کی جائے گی۔

اویس لغاری  نے کیا کہ پاکستان-جرمنی کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے۔

جرمن سفیر نے کہا کہ توانائی میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق ہوا ہے، جرمن سفیر نے  300 ملین یورو توانائی منصوبے اور جاری تعاون کا ذکر

بھی کیا ۔جرمن سفیرنے کیاکہ سال 2027 کے نئے منصوبوں کی تیاری جاری ہے۔ اس موقع پرتکنیکی سطح پر روابط بڑھانے اور جلد دوبارہ ملاقات پر اتفاق ہوا۔