چترال،12اپریل(اے پی پی ):دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں اور مختلف مشاغل کے ذریعے گھروں میں اپنا وقت گزار رہے ہیں،وہیں چترال کی سرزمین ایک ایسا خطہ ہے جہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں میں رہ کر مختلف رنگوں کے پھول لگا رہے ہیں۔
چترال کے وادی آیون میں واقع سالار ہاؤس میں شاکر الدین سالار نے اپنے گھر کے اندر ہی محتلف انواع و اقسام کے پھولوں کے پودے لگائے ہیں جن کی دیدہ زیب رنگ اور خوبصورتی انسان کو چند لمحوں کیلئے اپنی جادو سے مسخر کر دیتی ہے ، اس باغ میں ہزاروں قسم کے پھول لگے ہیں۔
باغ کے مالک شاکر الدین کا کہنا ہے کہ اس کا والد مرحوم بھی پھولوں کا شوق رکھتا تھا اور اسے چترال کے مہتر شجاع الملک بھی تحفے میں پھولوں کی بیچ دیتے تھے جو وہ اپنے باغ میں لگاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے یہ شوق اپنے والد سے منتقل ہوا ہے اور وہ بھی پورے ملک سے مختلف پھولوں کے بیچ لاکر یہاں لگاتے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بعض اوقات اپنی شوق کی تکمیل کیلئے بیرون ممالک سے بھی پھولوں کا بیچ منگواتے ہیں ۔
آیون گاؤں میں سالار ہاؤس کے اس خوبصورت باغ کو دیکھنے کیلئے، مقامی ،ملکی اور غیر ملکی سیاخ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔علاقے کے معروف سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر کا کہنا ہے کہ ان پھولوں کی خوبصورتی کو دیکھ کر انسان ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے۔
اعجاز احمد جو ایک نجی ائیر لائن کا ملازم ہے ، نے کہا کہ وہ بھی اس باغ کو دیکھنے اکثر اوقات آتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ میں نے بڑے بڑے شہروں میں اس قسم کے باغوں کو صرف حکومتی سرپرستی میں دیکھا ہے مگر چترال واحد جگہ ہے جہاں ایک شحص نے اپنی مدد آپ کے تحت اتنا خوبصورت باغ لگایا ہے جہاں ہزاروں قسم کے پھول دار پودے لگائے ہیں اور اس میں محتلف انواع و اقسام کے پھول لگے ہیں۔
ابیراحمد ، جغور سے اس باغ کو دیکھنے کیلئے آیا تھا ،اس کا کہنا ہے کہ اگر ہر شحص شاکر الدین کی طرح شوق رکھے تو پورا ملک پھولوں کے ایک باغ کا منظر پیش کرے گا اور گندگی کے بجائے ہمیں ہر طرف پھول ہی پھول نظر آئیں گے۔
کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں ، اپنی مدد آپ کے تحت لگائے گئے اس خوبصورت باغ کو بھی لوگ دور دراز سے دیکھنے آتے ہیں اور آکر تھوڑی دیر کیلئے محظوظ ہوجاتے ہیں۔
اے پی پی /گل احمد فاروقی/حامد











