این آر او کی قیمت 29 ملین ڈالر قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے، براڈ شیٹ سے متعلق دستاویزات کو پبلک کیا  جا رہا  ہے؛ شہزاد اکبر

69

اسلام آباد۔18جنوری  (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ این آر او کی قیمت 29 ملین ڈالر قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے، براڈ شیٹ سے متعلق دستاویزات کو پبلک کردیاگیاہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت شفاف احتساب پر یقین رکھتی ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ سے متعلق کچھ دستاویزات پبلک کر رہے ہیں۔ براڈ شیٹ سے متعلق اہم دستاویزات پبلک کرنے کے لئے براڈ شیٹ کے وکلا سے ہمارے وکلا نے رابطہ کیا۔ انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے بغیر احتسا ب کا عمل ممکن نہیں۔ موجودہ حکومت شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اس دستاویز کو پبلک کررہی ہے۔

مشیر احتساب نے کہا کہ نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان معاہدے جون 2000 میں ہوا تھا۔ اسی طرح جولائی 2000 میں انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری(آئی آر اے) کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ دسمبر 2000 میں ڈیل کر کے نواز شریف سعودی عرب چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 28اکتوبر 2003 میں براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے منسوخ کر دیا گیا۔ 2007میں براڈ شیٹ اور آئی آر اے نے حکومت پاکستان کو اس کے ذمہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کا نوٹس دیا۔ 20 مئی 2008 کو براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ہواجس کے تحت 1.25 ملین ادا کئے گئے۔ اس وقت یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ 2009 کو براڈ شیٹ دوبارہ اس رقم کی ادائیگی کے لئے حکومت پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت میں  گئی۔ جنوری 2016 کو اس معاملے پر حتمی دلائل شروع ہوئے اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔ 5 اگست 2016 کو اس کا فیصلہ براڈ شیٹ کے حق اور پاکستان کے خلاف ہوا۔ 2 سال بعد جولائی 2018میں براڈ شیٹ کو رقم کی ادائیگی کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت نگران حکومت تھی۔

 وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہاکہ اگست 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی۔ جولائی 2019ءمیں ہم نے لندن ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ 2020 میں براڈ شیٹ کے حق میں عبوری فیصلہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کو ادائیگی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کی گئی۔ ماضی میں دیئے گئے این آر او کاخمیازہ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کی مد میں براڈ شیٹ کو 1.5ملین ڈالر دیئے گئے ہیں۔ نواز شریف کے دیگر اثاثہ جات کی مد میں 19 ملین ڈالر براڈ شیٹ کو ادا کئے گئے۔ ایون فیلڈ سمیت دیگر اثاثہ جات اس رپورٹ کے مطابق ثابت شدہ ہیں۔ اس رپورٹ میں شہباز شریف پر 7.3ملین ڈالر کرپشن اور ہائی ویز میں 160 ملین ڈالر کک بیکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کیا یہی چارٹر آف ڈیموکریسی ہے۔ یہ ان کی 2000 سے پہلے کی کرپشن ہے جس کی نشاندہی پر 20 فیصد براڈ شیٹ کو ادائیگی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے کے حوالے سے سفارشات کی تیاری کے لئے وزرا کمیٹی قائم کی ہے جو 48 گھنٹوں میں اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل کے ذریعے قانون کے مطابق سزا دلوانا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے اداروں پراعتماد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ قیادت میں نیب بہترین کام کررہا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں کے مقابلہ میں نیب کی گزشتہ 2 سال کی ریکوریاں اس کی مثالی کارکردگی کا ثبوت ہیں۔