نوشہروفیروز،04 اگست(اے پی پی):ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون محمد تاشفین کی زیر صدارت عشرہ محرم الحرام کے دوران امن و امان ، مذہبی ہم آہنگی قائم رکھنے،حکومت کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے مطابق تمام جلوسوں اور مجالس کے پرمٹ ہولڈر ، ذاکریں اور علمائے کرام کی کورونا ویکسی نیشن ضروری ہے اور مجالس کو بند اور تنگ جگہ کے بجائے کھلی جگہ پر منعقد کیا جائے تمام پرمٹ ہولڈر شرکا کو ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے اپیل کی کہ کوشش کی جائے کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد اور بچوں کو رش والی جگہ سے دور رکھا جائے کیوں کہ کورونا تیزی سے پہل رہا ہے اور احتیاطی تدابیر انتہائی ضروی ہیں۔
محمد تاشفین نے کہا کہ تمام مجالس اور جلوسوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گی گئی ہے جبکہ سیپکو حکام کو یکم سے تیرہ محرم تک شام 6 بچے سے رات دو بجے تک لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے تمام ٹاؤن افسران کو شہروں اور ماتمی جلوسوں کے روٹوں پر صفائی اور روشنی کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محرم الحرام میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا، ضلع کے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور شرانگیزی پر مشتمل پمفلٹ، کیسٹ اور قابل اعتراض نعروں پر پابندی ہوگی، اسلحہ کی نمائش اور اسکے استعمال پر سخت پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس اور جلوسوں پروقت کی پابندی یقینی بنائے جائےگی اور کسی بھی جلوس کو روٹ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اجلاس میں مولانا عبدالرحمٰن ڈنگراج، مولانا محمد عارف لنڈ،سبحان علی ٹالپر، محمد شفیق ، جمیل الرحمن جتوئی،سید نوید علی شاہ، غلام حیدر حیدری، سید اختیار حسین شاہ اور دیگر نے واپڈا کی جانب سے لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسفارمر جلنے کی شکایت کی جبکہ شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال کی نشاندہی کی۔
اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ، پولیس، رینجرز، محکمہ صحت، سیپکو، سوئی گیس اور ٹاؤن افسران نے شرکت کی۔











