ہم کشمیریوں کی بے پناہ قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد میں ان کے جذبوں اور ولولوں کو سلام پیش کرتے ہیں،شاہ محمود قریشی

18

اسلام آباد،5اگست  (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 5اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے چوبیس ماہ مکمل ہونے پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کی بے پناہ قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد میں ان کے جذبوں اور ولولوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے  جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ بھارت توقع کر رہا تھا  کہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش سے وہ کشمیری عوام کے جذبوں  کو کمزور کرینگے  یا کم از کم انہیں ان کے حق خود ارادیت کے حوالے سمجھوتہ پر آمادہ کر لینگے لیکن  دونوں صورتوں میں ، بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ ان تمام تر اقدامات کو پاکستان ، کشمیریوں اور عالمی برادری نے یکساں مسترد کردیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل ، آزادی اظہار پر بے مثال پابندیاں ، جعلی مقابلے ، محاصرے اور سرچ آپریشنز ، حراست میں تشدد اور موت ، جبری گمشدگیاں ، کشمیری قیادت اور نوجوانوں کی گرفتاریاں، پیلٹ گن کا استعمال ،گھروں کی تباہی سمیت بھارتی جبر و استبداد اور محکومیت کے دیگر طریقے کشمیری عوام کے عزم کو متزلزل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ  بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازعہ 1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔کشمیر کا تنازعہ گزشتہ سات دہائیوں سے سلا تی کونسل کے قراردادوں اور کشمیری عوام۔کی امنگوں کے مطابق حل طلب ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ  انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ، پاکستان ، عالمی برادری اور کشمیری عوام کے ساتھ اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ عالمی برادری ، انسانی حقوق کی تنظیمیں ، بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائٹی نے بھارتی جبر کی مذمت کی ہے جبکہ عالمی رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار اور کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ امن اور خوشحالی کی صبح دیکھنے کے متمنی ہیں،جہاں قابض بھارتی فورسز نے لاکھوں کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف جرائم کے لیے بھارت کو زمہ دار ٹھہرائے اور مطالبہ کرے کہ وہ 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے ، سخت قوانین  منسوخ اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیاں بند کرے اور لوگوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی بند کرے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان اس وقت تک اپنی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خود ارادیت کو حاصل نہیں کر لیتے۔