اسلام آباد، 24 ستمبر (اے پی پی ): وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہاسلامو فوبیا ایک ضرر رساں مظہر ہے ، اس میں اضافہ کو روکنے اور بین العقیدہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے عالمی مکالمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کو بعض حلقوں کی طرف سے اسلام کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ اس سے دائیں بازو، زینو فوبک اور پرتشدد قومیت پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گرد گروپوں کے مسلمانوں کو ہدف بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی نے ان ابھرتے ہوئے خطرات کو تسلیم کیا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں اسلامو فوبیا اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے درپیش دہشت گردی کے ان نئے خطرات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی انتہائی بدترین اور نہایت سرایت پزیر شکل کا اس وقت بھارت پر راج ہے۔ نفرت سے بھرپور ہندوتوا نظریہ نے جس کا پرچار فاشسٹ آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت نے کیا ہے، بھارت کی 20 کروڑ مضبوط مسلم برادری میں خوف اور تشدد کی لہر پیدا کی ہوئی ہے۔ گائے کے محافظوں کی طرف سے جتھوں کے ذریعے لوگوں کو تشدد کر کے مارنے، اقلیتوں پر حملہ کرنے کے اکثر واقعات سامنے آتے ہیں جس طرح کہ گزشتہ سال نئی دہلی میں ایک واقعہ ہوا۔ بھارت سے مسلمانوں کو نکالنے کیلئے امتیازی شہریت قوانین، بھارت بھر میں مساجد کو منہدم کرنے کی مہم اور مسلمانوں کے ورثہ اور تاریخ کو مٹانے جیسے اقدامات اس مجرمانہ سرگرمی کا حصہ ہیں۔











