مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کی خلاف ورزی ہیں؛ وزیراعظم عمران خان

13

اسلام آباد، 24 ستمبر (اے پی پی ): وزیراعظم عمران خان نے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر  اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہا کہ  نئی دہلی نے یہ شروعات بھی کی ہے جسے وہ  شرانگیز  انداز میں تنازعہ جموں و کشمیر کیلئے ”حتمی حل” کہتا ہے اور اس نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں یعنی5   اگست 2019 ء سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں  متعدد غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کئے گئے اور 9  لاکھ قابض افواج کے ذریعے دہشت کی فضا قائم کی ہے، اس نے کشمیریوں کی سینئر قیادت کو پابند سلاسل رکھا ہے،میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ  پرامن احتجاج کو پرتشدد طریقے سے دبایا گیا۔اس کے علاوہ 13 ہزار نوجوان کشمیریوں کو اغوا کیا گیا ہے اور ان میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور  جعلی مقابلوں میں سینکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور پورے پورے  پورے محلوں اور دیہات کو تباہ کرکے لوگوں کو اجتماعی سزائیں دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈوزیئر جاری کیا ہے۔

وزیر اعظم  عمران  خان  نے کہا کہ غیر قانونی کوششوں کے ذریعے جابرانہ ہتھکنڈوں کا مقصد مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مسلمان اکثریت کو مسلمان اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔قراردادوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ متنازعہ علاقے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے تحت  آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اس کے لوگوں کو کرنا چاہئے اور  مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔