اسلام آباد،28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام پر یقین رکھتے ہیں، بااختیار بلدیاتی حکومتوں کا نظام پاکستان کے مسائل کا حل ہے، آرٹیکل 140 اے کا نفاذ نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، لوکل گورنمنٹ نظام نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کے پیسے برابری کی بنیاد پر اضلاع میں خرچ نہیں ہوتے، جدید جمہوریت میں نیچے سے اوپر کی طرف دیکھنا ہوگا، ہمارے شہروں میں بنیادی مسئلہ گورننس کا ہے، جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا، صوبوں میں پروونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ نہ ہونے کی وجہ سے اضلاع میں شکایات آتی ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مقامی حکومتوں کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کے بغیر ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو دیکھیں تو مطلق العنان بادشاہت سے جمہوریت کی جانب سفر درجہ بدرجہ طے پایا، 1216ءسے 1226ءتک میگنا کارٹا کے دور کے بعد جدید جمہوریت سامنے آئی، ہندوستان میں 1857ءتک جنگ آزادی ہوئی، اس وقت بادشاہ کو ذی السبحانی کہا جاتا تھا، حکومت اور لوگ ذی السبحانی کی طرف دیکھ رہے ہوتے تھے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ 16ویں سے 17 ویں صدی میں جدید جمہوریت آئی، بل آف رائٹس منظور ہوا جس میں کہا گیا کہ ٹیکس کا پیسہ بادشاہ اپنی مرضی سے خرچ نہیں کرسکے گا، ٹیکس لگانے کا اختیار منتخب نمائندوں کے بغیر نہیں ہوگا، ٹیکس اس وقت لگے گا جب عوام کے منتخب نمائندے اجازت دیں گے، اس جمہوریت کا آغاز 17 ویں صدی سے برطانیہ کی پارلیمان سے ہوا،اس طرح بادشاہ کے اختیارات کم ہوتے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کی جدید شکل میں عوام بااختیار ہوتے گئے، جدید جمہوریت میں نیچے سے اوپر کی طرف دیکھنا ہوگا، اس کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام ہی بہترین نظام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2006ءمیں مقامی حکومتوں کا نظام شروع ہوا تو اس میں ایک خامی یہ تھی کہ صوبوں کے اختیارات تو منتقل کر دیئے گئے لیکن وفاق کے اختیارات منتقل نہیں کئے گئے، صوبوں کو تشنگی رہ گئی کہ ان کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، پھر 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے منتقل ہونے والے اختیارات نیچے سے اوپر منتقل کر دیے گئے، اس طرح اختیارات کی منتقلی کا جو فائدہ ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو سکا۔











