زرعی ماہرین کا   قومی اداروں میں جدید سائنسی پالیسی اور تجربات کو مزید اہمیت دینے پر زور

37

حیدرآباد،10نومبر (اے پی پی): ملک کے زرعی اور تدریسی ماہرین، انتظامی اور سماجی رہنماؤں نے ملکی ترقی، غذائی تحفظ اور امن و امان کو بہتر بنانے اور قومی اداروں میں جدید سائنسی پالیسی اور تجربات کو مزید اہمیت دینے پر زور دیا ہے جبکہ طلباء کو امتحان پاس کرنے کے جستجو سے زیادہ سائنس سمجھنے کو اہمیت دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سندھ زرعی یونیورسٹی، ٹنڈوجام میں اسٹوڈنٹس-ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام (STEP) کے زیر اہتمام سائنس کے عالمی دن کی مناسبت سے “سائنس سے  امن اور ترقی” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی وجہ سائنس ہے، اس لئے زراعت، میڈیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ترقی سے ملک ترقی کرے گا اور غربت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یوں تو ملک میں مختلف شعبوں پر تحقیق ہو رہی ہے لیکن آج کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی سے ملک مختلف بحرانوں سے باہر نکل سکتا ہے۔

پاکستان کے طلباء کیلئے نیشنل پروگرام کی سربراہ فلائٹ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ سید مسرت شاہ نے کہا کہ ملک میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں، آبادی میں تیزی اور رہائشی آبادی میں اضافے کی وجہ سے خوراک میں قلت ہونے کے امکانات موجود ہیں، اگر تحقیق پر توجہ نہ دی گئی توعمارتیں تو موجود ہونگی لیکن لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ آج کے نوجوانوں کو صرف امتحان پاس کرنے کی فکر کے ساتھ سائنس سیکھنے اور تحقیق پر بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا چین کے پاس تین گھنٹے تھیوری اور 9 گھنٹے کا فیلڈ ورک اور تجربات کروائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ چین پوری دنیا میں سائنس کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ کی جامعات سے طلباء کیلئے اسلام آباد، لاہور اور لنڈن میں مختصر تربیتی پروگرام کروائے جائیں گے، حیدرآباد دیہی کے اسسٹنٹ کمشنر سرھان اعجاز ابڑو نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات، سمندر کے پانی کا بڑھنا، درختوں کی کٹائی سے زراعت میں پیداواری صلاحیت پر گہرا منفی اثر پڑتا ہے، اس لیے آج کے نوجوانوں پر ماضی کی نسبت زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،  بچوں کو موبائل یا دیگر ذرائع سے گیمز یا تفریح کے مواقع دینے سے زیادہ سائنس اور تحقیق کا عادی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام انسان ایک جیسے ہیں، نئی ایجادات اور سائنس سے دلچسپی ملک اور لوگوں کے لیے بہتر کام کیا جاسکتاہے۔

 ایس آر پی او کی سربراہ زاہدہ ڈیتھو نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے والے طلباء اپنے علاقے کے لوگوں کی سماجی زندگی تبدیل کرسکتے ہیں، اچھڑو تھر جیسے پسماندہ علاقوں سے یونیورسٹیوں میں آنے والے نوجوان اپنی تعلیم کے ذریعے اپنے علاقوں کی ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک اور غذائیت کی کمی سمیت سندھ میں خاص طور پر بچوں کی تعلیم کا سنگین مسئلہ ہے۔

 یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ فنانشل اسسٹنس کے ڈئریکٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر نے کہا کہ حکومتی اور سیاسی معاملات میں توازن، پانی کی منصفانہ تقسیم اور وسائل کا بہتر استعمال، بدعنوانی کی روک تھام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے امن و امان میں بہتری آئے گی اور تحقیق اور معاملات پر مثبت بات چیت سے سائنسی ترقی میں مدد ملے گی، اس لئے اداروں کو نئی اور جدید سائنسی پالیسیاں اپنانی چاہیے۔

 سیمینار سے ایڈووکیٹ صائمہ ابڑو، محمد واصف پنھور، درشہوار ویسر اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین اور اسٹیپ کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز علی کھونھارو، مس نبیلہ، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر عبدالواحد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔