اسلام آباد،10نومبر (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور حلقہ این اے 75 ڈسکہ سے سابق امیدوارعلی اسجد ملہی نے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی الیکشن کمیشن کی حالیہ رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسکہ الیکشن کی رپورٹ لیک ہوئی یہ یکطرفہ رپورٹ ہےاس رپورٹ میں ہم سے پوچھا ہی نہیں گیا، کہا گیا الیکشن کا ماحول نہیں تھا، چیف الیکشن کمشنر ادارے کے ساتھ انصاف کریں اور اس کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔
حلقہ این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخاب اور الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے بدھ کو یہاں نیشنل پریس کلب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ڈسکہ کے حلقے این اے75 میں دوبارہ انتخابات کروائے، ڈسکہ الیکشن کی رپورٹ لیک ہوئی یہ یکطرفہ رپورٹ ہے ،اس رپورٹ میں ہم سے پوچھا ہی نہیں گیا، یہ رپورٹ ہمیں ابھی تک نہیں دی گئی، یہ خود مدعی اور خود ہی منصف بن گئے ہیں۔ہم نے آر او کے تبادلے کا کہا مگر اسے تبدیل نہیں کیا گیا، پہلے کہا گیا کہ آر اور ڈی آر او ناکام رہے ہیں تو پھر انکی موجودگی مین دوبارہ انتخاب کیوں ہوا؟ ہم نے آر او کے تبادلے کا کہا نہیں کیا گیا۔
علی اسجد ملہی نے کہا کہ الیکشن کمیشن گزشتہ ضمنی انتخاب کے بعد اپنی رپورٹ میں آر او کو نا اہل قرار دے چکا ہے بعد ازاں اسی آر او کے ماتحت دوبارہ الیکشن کرایا گیا، الیکشن کمیشن بتائے کہ ایک نا اہل آدمی دوبارہ کیسے صحیح الیکشن کرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر او نے چیف الیکشن کمشنر کو رات تین بجے پیغام دیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، جب ہمیں 21 تاریخ کو بلایا گیا تو چیف الیکشن کمشنر نے آر او سے پوچھا کہ رات کے 3 بجے آپ کی جان کو کیا خطرہ تھا، جس پر آر او نے اپنا زبانی بیان اسی وقت ان کے سامنے تبدیل کر دیا تھا، اس کے بعد ہمارا الیکشن کالعدم قرار دے کر ری پول کا حکم دے دیا گیا، اپنے حکم نامہ میں الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن کے لئے ماحول سازگار نہیں تھا اور لوگوں کو آزادی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع نہیں ملا۔
علی اسجد ملہی نے کہا کہ 19 پولنگ سٹیشنز کے علاوہ آر اوز کے سٹمپ کردہ نتائج کے مطابق حلقہ میں 46 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے، اس کے قریبی حلقہ وزیر آباد کے ضمنی انتخاب میں 47 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے، یہاں سے (ن) لیگ جیتی جس کی وجہ سے الیکشن کو منظور کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فائرنگ کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا عمل سست ہوا، فائرنگ ہم پر ہوئی، ہمارے بندے شہید ہوئے، الیکشن کے پورے 60 دن الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت یا کسی کو الیکشن کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔
حلقہ این اے 75 ڈسکہ سے سابق امیدوارعلی اسجد ملہی نے کہا کہ ہمارا الیکشن میں مقابلہ (ن) لیگ سے نہیں بلکہ آر اوز کے ساتھ تھا، ڈی آر او نے پورے حلقے کا دورہ کیا اور ہم سے کہا کہ اپنے تمام بینر اتار دیں کیونکہ اس پر وینڈر کا نام نہیں ہے، تمام بینرز پر وینڈرز کا نام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ پورا پاکستان چھان لیں، الیکشن کے دوران کسی بینر کے اوپر وینڈر کا نام نہیں ہوتا، ہمارے جتنے ترقیاتی کام تھے، ان میں سے بہت سے (ن) لیگ کے دور سے چل رہے تھے، انہیں بند کروا دیا گیا، یہ غیر قانونی احکامات تھے کیونکہ جاری کام نہیں روکے جا سکتے البتہ الیکشن کے اعلان کے بعد نئے کام شروع نہیں کئے جا سکتے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے نمائندے نے ہم سے تقاضا کیا کہ وہ (ن) لیگ کے امیدوار کو مطمئن کرے۔ الیکشن سے قبل تمام انتظامی عہدیداروں کو بدل دیا گیا لیکن آر او نہیں بدلا، ہم نے تحریری طور پر کہا تھا کہ آر او کو بدلایا جائے لیکن اسی آر او کے ماتحت الیکشن کرایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این اے 75 کا الیکشن دوبارہ کرایا جائے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آپ ایک آئینی ادارے کے سربراہ ہیں، ہمیں انصاف چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس کسی مہم کا حصہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف صاف اور شفاف الیکشن چاہتی ہے، سینیٹ کے انتخابات میں کسی جماعت نے اعتراض نہیں کیا، ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ اوپن بیلٹنگ ہو تاکہ الیکشن شفاف ہو سکیں، ہم نظام کو بہتر کرنے آئے ہیں، ہم الیکشن میں اصلاحات کے لئے اپوزیشن کا ساتھ دیں گے لیکن اپوزیشن کو اپنی تجاویز دینی چاہئیں اور نظام کو شفاف بنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہم ایک سال سے کہہ رہے ہیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین چیک کر لیں اور وزیراعظم نے یہ سب کچھ فلور آف ہاؤس پر کہا ہے،نظام میں شفافیت تب آتی ہے جب اس میں نئی ٹیکنالوجی لے کر آتے ہیں، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم آج بھی وہاں کھڑے ہوئے ہیں، کیا اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں ملنا چاہیے، کیا اوورسیز پاکستانی پاکستانی نہیں۔











