ملتان، 13 نومبر(اے پی پی ): صوبائی وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک نے کہا ہے کہ شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیکر توانائی کے بحران پر قابو پائیں گے۔
یہ بات انہوں نے چلڈرن ہسپتال اینڈ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ ملتان میں 450 کلو واٹ کے سولر پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کے اس پراجیکٹ سے ہسپتال کو یوٹیلیٹی بلز کے اخراجات کی مد میں 25 فیصد بچت کے علاوہ بجلی کے بل کی مد میں سالانہ ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔
صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب حکومت مہنگی بجلی کے بوجھ اور اخراجات کو کم کرنے کےلئے سرکاری سکولوں، ہسپتالوں اور دفاتر کو شمسی توانائی پر منتقل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان اور میانوالی کے شہروں کو ماڈل سولر سٹی قرار دیا ہے اور ان شہروں میں سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکاری وسائل کو بچا کر صحت تعلیم اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 11ہزار سکولز کو شمسی توانائی پر شفٹ کیا جا چکا ہے جبکہ اس سال کے آخر تک 45 سو مزید سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا جبکہ 2400 بنیادی مراکز صحت اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کیساتھ ساتھ سرکاری یونیورسٹیوں کو بھی شمسی توانائی کے منصوبوں پر منتقل کرنے کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 350 تھانوں ، جیل خانہ جات اور کالجز میں بھی مرحلہ وار سولر توانائی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سپیشل اکنامکس زون میں سولر توانائی کے پراجیکٹ کو فروغ دیکر تجارتی سرگرمیوں میں پیداواری لاگت کو کم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے تاکہ صنعت کار خوشحال ہو اور سستی اشیاءکا حصول ممکن ہو سکے۔
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے پریس کلب ملتان اور دفتر تعلقات عامہ ملتان میں سولر پراجیکٹ کی تنصیب کا اعلان بھی کیا۔
اس موقع پر ارکان صوبائی اسمبلی سلیم لابر، طارق عبداللہ، سبین گل اور چیئرمین پی ایچ اے اعجاز جنخوعہ بھی موجود تھے۔











