اسلام آباد، 20دسمبر ( اےپی پی): اجلاس بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں میں کردار ادا کرے ۔افغان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روڈ میپ تیار کر کے تمام افغانوں بشمول خواتین کی افغان معاشرے کے تمام شعبوں میں شمولیت کو تقویت دیں۔افغانستان میں غذائی تحفظ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس او آئی سی کے رکن ممالک، بین الاقوامی عطیہ تنظیموں، اقوام متحدہ کے فنڈز اور پروگرامز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے فوڈ سیکیورٹی پروگرام میں دل کھول کر حصہ ڈالیں۔
او آئی سی افغانستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک میں افغان مہاجرین کو ضروری انسانی اور اقتصادی امداد فراہم کرنے کے لیے ڈونر مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
او آئی سی کے رکن ممالک، بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ، بین الاقوامی تنظیموں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فوری طور پر اپیل کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کرتے رہیں۔
اجلاس افغانستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کی اہمیت کا اعادہ کرتا ہے۔ اس بات کو یقینی بناناہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد گروہ یا تنظیم کے ذریعہ ایک پلیٹ فارم یا محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہو۔
اجلاس افغانستان سے تمام دہشت گرد تنظیموں بالخصوص القاعدہ، داعش اور اس سے وابستہ تنظیموں، ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
اجلاس ے افغان اداروں کی صلاحیت کی تعمیر نو کے لیے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
سفیر طارق علی بکیت، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی ہمدردی، ثقافتی اور خاندانی امور کو خصوصی ایلچی کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے
اجلاس درخواست کرتا ہے کہ وہ ممتاز مذہبی اسکالرز اور علمائے کرام کے وفد کا اہتمام کریں جو افغانستان میں رواداری اور اعتدال پسندی پر گفتگو کا آغاز چیت کریں۔
اسلامی ترقیاتی بنک اور سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48ویں اجلاس میں رپورٹ پیش کی جاۓ۔
افغانستان میں او آئی سی مشن کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیئے جائیں۔ افغانستان میں انسانی اور معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے OIC کے رکن ممالک، OIC کے مالیاتی اور انسانی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے افغانستان کے لیے اقتصادی وسائل کا تعین کیا جاۓ۔











