اسلام آباد،30دسمبر (اے پی پی):سینٹر فارائروسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی اے ایس ایس) اسلام آباد کے زیر اہتمام “دسمبر 71 کی فضائی جنگ میں پی اے ایف کی قابلیت کی داستان” پر منعقدہ قومی سیمینار میں پاکستان ایئر فورس کے سابق سینئر افسران اور نامور سفارتکاروں کا متفقہ اہم پیغام تھا کہ “مسٹر جناح ٹھیک کہتے تھے” جب انہوں نے کہا کہ پاکستان کواقوام عالم میں اپنی صحیح جگہ بنانے کے لئے “اندرونی امن اور بیرونی امن” حاصل کرنا چاہئے۔ مسٹر جناح ٹھیک کہتے تھے جب انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے “سیکنڈ ٹو نن” ایئر فورس چاہئے۔
سیمینار میں ائیر مارشل مسعود اختر (ریٹائرڈ)، سابق ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف (ٹریننگ)، کلیدی سپیکر تھے جبکہ دیگر نامور مقررین میں سفیر خالد محمود چیئرمین بورڈ آف گورنرز، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اسلام آباد ؛ ایئر کموڈور جمال حسین (ریٹائرڈ)، تجربہ کار دفاعی تجزیہ کار؛ سفیر افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی، بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیوزی لینڈ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنرشامل تھے۔
سیمینار کی صدارت صدر سینٹر فارائروسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز ایئر مارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے کی جبکہ ایئر وائس مارشل فہیم اللہ ملک (ریٹائرڈ) ڈائریکٹر وارفیئر اینڈ ایرو اسپیس نےکارروائی کی نظامت کی۔مقررین نے اس بات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان پی اے ایف افسران کی کہانیوں کو دوبارہ سنانا کیوں ضروری تھا جنہوں نے1971 کی جنگ میں اپنی قربانیاں اس لِئے دی تھیں تاکہ قوم زندہ رہے۔
صدر سی اے ایس ایس ایئر مارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سیمینار کا انعقاد پاک فضائیہ کی اس غیر معمولی لگن، بہادری، قربانی اور جذبے کی وجہ سے کیا گیا تھا جو ایک عظیم قومی سانحے کی وجہ سے چھپی رہی۔ یہ ضروری ہے نوجوان نسلوں تک ان مشکل حالات میں پی اے ایف کی قابل ستائش کارکردگی سے بار بار آگاہ کریں۔
ائیر مارشل مسعود اختر نے اپنے کلیدی خطاب میں مجموعی طور پر پاکستان کی سیاسیات، مشرقی اور مغربی پاکستان میں قائداعظم کی رحلت کے بعد کا ماحول، مسلح افواج کی تعمیر و تشکیل، دفاعی اسٹیبلشمنٹ بالعموم اور پی اے ایف بالخصوص، کے کردار کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 1971 کے پس منظر میں ہم اکثر رکاوٹوں کو دیکھنے سے کتراتے ہیں جن کے باوجود، پی اے ایف نے اپنے سے ایک بڑی فضائیہ سے برابری کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ایئر مارشل اختر نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے کسی بھی نمونے کو کامیاب ہونے کے لیے مشترکہ مقصد اور مشترکہ شناخت کی ضرورت ہے جس کے لیے قومی مفادات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
مارچ اور دسمبر1971 کے درمیان عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی ماحول کا تجزیہ کرتے ہوِئے سفیر خالد محمود نے اقوام متحدہ میں اتحاد کی سیاست اور ان کے اثرات بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو1971 کے بحران کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ارکان کی زبردست سفارتی حمایت حاصل تھی۔ تاہم، یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تھا، جہاں روس نے بھارت کا ساتھ دینے اور پاکستان کی پوزیشن کو کمزور کرنے کے لئے ویٹو پاور کا استعمال کیا۔ یہاں چین کا کردار اہم تھا جو اس تمام مشکل وقت کے دوران پاکستان کا زبردست حامی رہا۔ ترکی نے یو این ایس سی کا رکن نہ ہونے کے باوجود بھی بہترین کردار ادا کیا۔1971 کے دوران پاکستان کو درپیش اندرونی مسائل پر سفیر افراسیاب نے روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ اندرونی سیاسی بدانتظامی، نازک معاشی حالات، سماجی انصاف کی عدم موجودگی، ناقص قانون اور نظم و نسق اور قیادت کی نااہلی نے حالات کو ابالنے میں بڑا کردار ادا کیا جو آخرکار مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت بھی دنیا تیزی سے مذہبی فسطائیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سفیر افراسیاب نے نتیجہ اخذ کیا کہ 1971 ایک سانحہ تھا لیکن جناح کا وژن 100 فیصد درست تھا کیونکہ دوقومی نظریہ آج تک زندہ ہے۔
ایئر کموڈور جمال حسین (ریٹائرڈ) نے 1971 کی جنگ کے دوران فضائی مہم میں شامل حکمت عملی اور آپریشنز کا تجزیہ کیا اور ڈھاکہ میں نمبر 14 اسکواڈرن کے بہادر پائلٹس، دیکھ بھال اور معاون عناصر کے ساتھ ساتھ فضائی دفاع کے ریڈار کنٹرولرز اور جہازشکن گنرز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حتمی المناک نتائج کے باوجود، دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر، 1971 میں پی اے ایف کی کارکردگی اس کی پیشہ ورانہ مہارت اور تربیت کی سطح کے پیش نظر اگر 1965 سے بہتر نہیں تو برابر ضرور تھی۔
اختتامی خطاب میں صدر سی اے ایس ایس نے تمام مقررین کے تجزیہ سے اتفاق کیا کہ بدقسمتی سے مشرقی پاکستان کا ٹوٹنا راتوں رات نہیں ہوا، بلکہ یہ مسلسل حکومتی بدانتظامی، ناکام سفارت کاری، غلط فوجی حکمت عملی ، سیاسی بدنظمی اورمختلف داخلی پہلوؤں کی ناکامیوں کی انتہا تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1971 کی جنگ کے بعد، مختلف رکاوٹوں کے باوجود، پی اے ایف نے موجود خطرات کے ادراک اور آپریشنل تصورات کے مطابق اپنی صلاحیت کو بڑھانا جاری رکھا ہے۔ ائیر مارشل خان نے نشاندہی کی کہ مستقبل کے تنازعات زمینی نہیں بلکہ علمی میدان میں لڑے جائیں گے۔
انہوں نے اس بات کو سراہا کہ پی اے ایف ان تبدیلیوں سے آگاہ ہے، اس لیے غیرروابطی طریقہِ جنگ ، مصنوعی ذہانت ، سائبر اور خلا کا استعمال اس کے تصورات میں نمایاں ہے۔
سیمینار میں سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران، سابقہ جنگی فوجیوں، سفارتکاروں اور اسکالرز نے شرکت کی جنہوں نے سوال و جواب کے سیشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔











