مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے عوام کی امداد وقت کا اہم تقاضا ہے: اسپیکر قومی اسمبلی

17

اسلام آباد،6جنوری  (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے عوام کی امداد وقت کا اہم تقاضا ہے، افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف افغان عوام کیلئے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی مشرق وسطیٰ کے ممالک تک تجارت کیلئے رسائی کیلئے بھی ضروری ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو افغانستان کے حوالہ سے بین الوزارتی کوآرڈینیشن سیل (اے آئی سی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس کے آغاز پر مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے سپیکر قومی اسمبلی کا خیرمقدم کیا اور انہوں نے افغانستان بین الوزارتی کوآرڈینیشن سیل کے کردار اور افغان عوام کیلئے اس فورم سے انسانی امداد کے حوالہ سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے حوالہ سے بریفنگ دی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی طرف سے افغان عوام کی امداد کیلئے 5 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا جس میں اشیاء خوردونوش، زندگی بچانے والی ادویات، کمبل، خیمے اور سردی سے بچاؤ کیلئے دیگر اشیاء بھی شامل تھیں۔ ایسی عالمی غیر سرکاری تنظیمیں جو افغانستان میں انسانی امداد کے تحت طبی کاروباری اور دیگر خصوصی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، ان کیلئے ویزوں کا اجراء کا عمل شروع ہے تاکہ وہ عالمی غیر سرکاری تنظمیں افغان عوام کیلئے انسانی امداد کیلئے اپنی کاوشیں بروئے کار لا سکیں، اسی طرح افغانستان واپسی کیلئے اب تک پھنسے ہوئے مریضوں کیلئے سہولیات کی بھی پیشکش کی گئی۔

 اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو طویل المدتی قیام کیلئےایک تجویز  وزیراعظم کو منظوری کیلئے بھجوائی گئی ہے۔ اسی طرح پشاور۔جلال آباد اور کوئٹہ۔قندھار کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے حوالہ سے بھی کام جاری ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اعلیٰ سطحی افسران کا ایک وفد افغانستان کا دورہ کرے گا اور افغان حکومت کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں سے متعلق پہلوئوں کا جائزہ لے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے افغان بین الوزارتی کوآرڈینیشن سیل کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اس فورم کی جانب سے ہمسایہ ملک کی امداد کیلئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشکل کے وقت میں عالمی برادری کو افغانستان کے عوام کو بے آسرا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف افغانستان کے عوام کیلئے ضروری ہے بلکہ مشرق وسطیٰ تک پاکستان کی رسائی کیلئے بھی ضروری ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب اور افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔