اسلام آباد۔11جنوری (اے پی پی): گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود کا تعین زری و مالیاتی مانیٹری پالیسی کمیٹی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات کے مطابق کیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی حرکیات کے مطابق کرنے سے حسابات جاریہ کے کھاتوں پر دبائو کم ہوا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی 2016ءسے لے کر اس کے 18 ماہ کے عرصے تک شرح سود اور ایکسچینج ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2018ءمیں حسابات جاریہ کا خسارہ 19 ارب ڈالر تک ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کی حرکیات کے مطابق ایکسچینج ریٹ مقرر کرنے سے اب ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک کے بل سے بنک پر حکومتی کنٹرول ختم ہونے کا تاثر درست نہیں ہے۔ گورنر، ڈپٹی گورنرز اور بورڈ کے ارکان کا تقرر حکومت ہی کرے گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اوروزیر خزانہ شوکت ترین بھی موجود تھے۔











