اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی ومشرق وسطیٰ علامہ محمد طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ پوری امت مسلمہ کی زمہ داری ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی کے حق کے لیے ملکر آواز اٹھائے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی) اس موجودہ صورتحال پر بھی اپنا کردار اداکرے گی۔بھارت میں ہماری بیٹی نے پوری امت مسلمہ کی ترجمانی کردی ہے،پاکستان بھر میں 11فروری جمعہ المبارک کوتمام مکاتب فکر، علماء و مشائخ اجتماعات میں ہندوستان کی وہشت اور بربریت کی مذمت کریں گے۔بھارت میں اسلام شعائر کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرنے والی بہنوں اور بیٹیوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل اور المجلس الاسلامی العالمی اپنا بھرانداز میں کردار اداکرے گی۔ان خیال کا اظہار علامہ محمد طاہرمحمود اشرفی نے بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے جہاں پہلے زبیحہ پر پابندی لگائی گئی، پھرمساجد کوشہید کیا گیا اور پھر پچھلے دنوں جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی اور اب حجاب پر پابندی لگانے کے لیے ظلم وستم کاسلسلہ شروع ہوا. انہوں نے کہا کہ ایک بیٹی نے پورے عالم اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے اللہ اکبر کی صدا بلند کی جس پر پوری امت مسلمہ اور پاکستان قوم اپنی بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور پوری دنیا کے مسلمان بھارت میں ہونے والے ظلم وستم کے خلاف بھرپور آواز بلند کررہے ہیں۔مولانا طاہراشرفی نے کہا کہ بھارت میں مسلمان بیٹیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے 11فروری جمعہ المبارک کو یوم یکجہتی کے طورمنایا جائے گا اور عالم اسلام سے اپیل کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ بھارت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی کے حق کے لیے پوری امت مسلمہ کی زمہ داری ہے کہ سب ملکر آواز اٹھائیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ جس طرح اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی)نے پہلے بھی آواز بلند کی اور اس معاملے پر بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے.انہوں نے کہا کہ جمعتہ المبارک کو ملک بھر کے تمام مکاتب فکر، علماء و مشائخ جمعہ کے اجتماعات میں ہندوستان کی وہشت اور بربریت کی مذمت کریں گے اور اس کے ساتھ بھارت میں جوہماری بہنیں اور بیٹیاں اپنےحجاب، اقدار اور اسلامی شعائر کو بچانےکی جدوجہد کررہی ہیں ان کے لیے پورے ملک اور عالم اسلام سے تائید و حمایت کی جائے گی اور اس حوالے سے پاکستان علماء کونسل اور المجلس الاسلامی العالمی اپنا بھرانداز میں کردار اداکرے گی. انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے شیخ الظہر، امام کعبہ، مفتی اعظم سعودی عرب، مفتی اعظم امارات اور عالم اسلام کو دیگر قائدین کو خطوط بھی لکھ رہے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور اپنا کردار اداکریں۔











