مانسہرہ،16 فروری(اے پی پی):ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم نے وادی پکھل میں مختلف انسانی تاریخ سے تعلق رکھنے والے 5 پیشہ ورانہ ادوار کو دریافت کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون اور خیبرپختونخوا ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم کے تعاون سے قدیم تاریخی علاقہ گلی باغ کے مقام پر برصغیر میں مسلمانوں کے قرون وسطیٰ کے اواخر میں پہلے ترک حکمران بابر مرزا کے 1480 میں تعمیر کئے گئے قلعہ فیروزہ میں آرکیالوجی کے ماہرین نے کھدائی کا کام کیا جس نے اس وقت پکھل ریاست پر حکمرانی کی تھی ۔اس تاریخی علاقے کی کچھ باقی رہ جانے والی تحقیق اور اس کو دستاویزی شکل دینے کے لیے سائٹ پر ایک ریسکیو کھدائی کا آغاز کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ کے پانچ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے بہت سے متحرک اور قابل اصلاح شواہد دریافت ہوئے۔ جن میں ؛ سکے، ہڈیاں، ٹیراکوٹا کوکنگ پوسٹ، پتھر کی نوشت، پتھر کی مہریں، اینٹوں کے ڈھانچے اور لوہے کی چیزیں شامل ہیں۔ ان باقیات کا جدید سائنسی تجزیہ کرنےکے بعد انفرادی طور پر گلی باغ کے تاریخی ورثے اور پورے ضلع مانسہرہ کی تاریخ کا تعین کیا جا سکے گا جو آنے والی نسلوں اور ماہرین کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہو گا۔











