نظریے کے بغیر قوم نہیں بن سکتی ؛  وزیراعظم عمران خان  

7

حافظ آباد،13مارچ  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان 5 برسوں میں اتنا کام کر کے دکھائیں گے کہ ماضی میں اسکی مثال نہیں ملے گی، نظریے کے بغیر قوم نہیں بن سکتی، قائد اعظم کے بعد کوئی لیڈر شپ نہیں آئی جس نے پاکستان بننے کے مقاصد پر بات کی ہو،پہلی بار پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کیلئے 2 یونیورسٹیاں بن رہی ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے مفادات کی حفاظت کروں۔

  ان خیالات کااظہار  انہوں نے  اتوار کو حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  وزیراعظم نے  جلسہ کے کامیاب انعقاد پر رکن قومی اسمبلی شوکت بھٹی اور اراکین صوبائی اسمبلی سمیت مہدی حسن بھٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ شوکت بھٹی نے مطالبات کی اتنی بڑی لسٹ پیش کی ہے کہ اس سے لگتا ہے کہ جو کام 70 سال میں نہیں ہوئے وہ ایک سال میں کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ جب حکومت کے پانچ سال مکمل ہوں گے تو پاکستان کی تاریخ میں اتنی ترقی نہیں ہوئی ہو گی جتنی ان سالوں میں ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملک بھر اور بالخصوص پنجاب میں وہ کام کر کے دکھائیں گے جو ماضی میں نہیں ہوا ہو گا۔ انہوں  نے جلسہ کے شرکاء سے سوال کیا کہ آپ بتائیں مجھے 25 سال قبل سیاست میں آنے کی کیا ضرورت تھی، زندگی میں میں نے جو چاہا خدا نے دیا لیکن میں علامہ اقبال اور قائداعظم کے خواب کی تعبیر چاہتا تھا اس لئے سیاست میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے خواب کے مطابق پاکستان بنانے کا مقصد ایک قوم بننا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم کسی ایک نظریہ پر کھڑے ہو کر ہی قوم بن سکتی ہے ،باقی لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے جس میں علاقائی نعرے لگتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک قوم کو پاکستان کی تشکیل کا مقصد معلوم نہ ہو ہم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ انہوں  نے کہا کہ جب کوئی بھی قوم اپنے نظریہ سے ہٹتی ہے تو تباہ ہو جاتی ہے، ہم نے ایک عظیم قوم بننا تھا لیکن علامہ اقبال کے نظریہ پاکستان پر عمل نہ کر سکے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالی بھی نبی کریمۖﷺ  کی سنت پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے ، جب تک مسلمان سنت نبویۖ پر عمل پیرا رہے تو صدیوں تک دنیا پر حکومت کی لیکن جب اس سے پیچھے ہٹے تو نیچے آتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی قوم کی تربیت کیلئے رحمت العالمینۖ اتھارٹی قائم کی ہے جس کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو نبیۖﷺ کی سیرت سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہمارے نبیۖ سب انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے تھے اور انہوں نے مدینہ کی ریاست میں تمام انسانوں کو اکٹھا کیا ، نظریہ عدل و انصاف کا نظریہ تھا جس کے تحت سب کیلئے ایک ہی قانون تھا، مدینہ کی ریاست کا دوسرا اصول ایک فلاحی ریاست تھا اور یہ دنیا کی پہلی فلاحی اور خود دار ریاست تھی۔

 وزیراعظم  نے کہا کہ اللہ تعالی نے امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا درس دیا ہے، عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھائی کا ساتھ دیں اور برائی کے خلاف جہاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ خدا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ برائی کے خلاف کھڑے نہ ہوں جب تک ہم برائی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی قوم ظلم کے خلاف کھڑی نہ ہوتو  ظلم بڑھ جاتا ہے، کرپشن کے خلاف نہ اٹھیں تو کرپشن بڑھ جاتی ہے، معاشرے میں جرائم بڑھیں تو معاشرہ کو ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

 وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں گذشتہ 25 سال سے اپنی قوم میں تبلیغ کر رہا ہوں کہ اگر عظیم قوم بننا ہے تو اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو گرانے کیلئے چوری کے پیسے سے لوگوں کے ضمیر خریدنے پر ریاست ، عوام، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب میں کافی وقت گزارا وہاں کسی کی جرأت نہیں کہ کسی رکن پارلیمنٹ کا ضمیر خرید سکے، اس پر وہ معاشرے میں اپنی شکل بھی نہیں دکھا سکتے۔

وزیراعظم  عمران خان نے امریکہ کے ایک امیر ترین شخص کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ کرپشن میں پکڑا گیا تو اس کے بڑے بیٹے نے خود کشی کر لی، دوسرا گھر سے ہی نہ نکلا اور مر گیا، بیوی نے طلاق لے لی، بہن اور خاوند نے خود کشی کی کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ معاشرے میں ان کی جگہ ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم امر باالمعروف پر کھڑی ہوتی ہے تو خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رحمت العالمینۖ اتھارٹی کے قیام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اور عوام کی کردار سازی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں بھی لوگوں کی اخلاقیات پر توجہ دی گئی اسی فلسفہ کے تحت اتھارٹی بچے بچے کی تربیت کرے گی جس سے عوام میں شعور پیدا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں علامہ اقبال کی سوچ کے مطابق ایک مثالی ملک بننا ہے، میں پچیس سال قبل اسلئے سیاست میں آیا تھا کہ پاکستانیوں کو ایک قوم بنا سکوں کیونکہ قائد اعظم کے بعد ہماری قوم کا وقار گرتا گیا جس  کی  بنیادی وجہ حکمرانوں کا تخلیق پاکستان سے نابلد ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ اللہ ”کا نعرہ لگا تھا، جس کے فلسفہ کے تحت ہم غیرت مند قوم بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خودداری  کیلئے ہم نے فیصلہ کیا کہ پوری قوم کا ایک تعلیمی نصاب ہو گا تاکہ تعلیم میں فرق ختم ہو سکے اور پاکستان کی تاریخ میں ستر سال کے بعد ایک نصاب متعارف کروایا گیا ہے جس پر وفاقی وزیر تعلیم و تربیت شفقت محمود خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ تمام طلبہ انگریزی پڑھیں لیکن اس سے انسانوں میں تفریق پیدا نہ ہو جس کیلئے ہم نے یہ کام کیا ہے، ابتدا میں پانچویں جماعت تک یکساں نصاب متعارف کروایاگیا ہے اس کو باقی کلاسز تک بھی بڑھائیں گے تاکہ دینی مدارس سمیت سب بچوں کو انگریزی سمیت دیگر جدید علوم پڑھائیں تاکہ بچے ترقی کر سکیں۔

 انہوں نے کہا کہ میں نے پوری قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے اس حوالے سے نوجوانوں کو 26 لاکھ سکالرشپس دے رہے ہیں جن کی براہ راست نگرانی وزیراعظم آفس سے کی جا رہی ہے تاکہ میرٹ اور شفافیت یقینی بنے تاکہ قابل اور ذہین بچوں کو وظائف ملیں، ہم ٹیکنالوجی شعبے کی ترقی کیلئے پاکستان میں پہلی دفعہ دو یونیورسٹیاں بنا رہے ہیں جن میں تمام جدید ترین ٹیکنالوجیز پڑھائی جائیں گی اسی حوالے سے ایک ایروسپیس ٹیکنالوجی یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے تاکہ ہم بھی اس شعبہ میں ترقی کر سکیں اور ملک اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے۔

 وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جب نبیﷺنے مسلمانوں کی تھوڑی تعداد کے باوجود اس وقت کی دو سپر پاورز کو خطوط ارسال کئے تھے، نبیۖ ﷺنے روم اور فارس کی سپرپاورز کو پیغام دیا کہ میں اللہ کا پیغام لایا ہوں اگر تم اس پر چلو گے تو تمھاری بہتری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر کسی کے سامنے نہیں جھکتا اور یہ نبیۖﷺ کی سنت بھی ہے، کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی انسان کسی جھوٹے کے سامنے نہیں جھکتا لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ جب ہمارا وزیراعظم امریکی صدر کے سامنے بیٹھا تو اس کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں، پرچی سے پڑھتا تھا، اگر اس طرح کا رویہ کوئی لیڈر کسی کے سامنے کرے تو اس کی قوم کا معیار گر جاتا ہے کیونکہ ایک لیڈر ہی قوم کو اوپر اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح غلام ملک میں آزاد لیڈر تھے جو کسی کے سامنے نہیں جھکے۔

 یورپی یونین کے سفیروں کے خط کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے خط میں روس کے خلاف بیان دینے کا کہا جو سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔، انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی اور ملک میں بھی سفیر حکومت کو خط نہیں لکھ سکتے جس کی وجہ سے میں نے ان پر تنقید کی، ہم ایک آزاد ملک ہیں کسی کے غلام نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول نے اس پر کہا کہ وزیراعظم نے بڑا ظلم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغرب کو سب سے بہتر جانتا ہوں اور ان کی ذہنیت بھی جانتا ہوں جو لوگ ان کے جوتے پالش کرتے ہیں ان کو وہ حقارت سے دیکھتے ہیں ، جبکہ قوم کے مفادات کیلئے کھڑے ہونے والوں کی عزت کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ جو اپنی عزت کرتا ہے دنیا اس کی عزت کرتی ہے اور جو اپنی عزت نہ کرے دنیا اس کی عزت نہیں کرتی اس کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء تا 2018ء کے دوران پاکستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے اس ملک نے کئے جس کیلئے ہم جنگ لڑ رہے تھے، آصف زرداری اور نواز شریف نے ان حملوں کی ایک دفعہ بھی مذمت نہیں کی، یہ حملے دنیا کے قوانین کے خلاف تھے اور کوئی بھی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، جن کیلئے ہم جنگ لڑ رہے تھے وہی ہم پر بمباری کر رہے تھے، میں نے ہر جگہ کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت مختلف ممالک کے سفیروں نے کہا تھا کہ آپ ڈرون حملوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں اس سے تو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں جس پر میں نے کہا کہ ہمارا ایک دہشت گرد لندن میں 30 سال سے بیٹھا ہوا ہے جس نے کراچی میں اتنے لوگوں کوقتل کیا ہے جو کسی اور نے نہیں کئے لیکن فرق یہ ہے کہ اس نے پاکستانی قتل کئے ہیں اور مانگنے پر بھی اس کو ہمارے حوالہ نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ اجازت دیں گے کہ ہم ڈرون حملہ سے اس کو لندن میں مار دیں، آپ اس کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا میں ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے، میں 22 کروڑ عوام کا وزیراعظم ہوں اور پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ میری سب سے بڑی ذمہ داری ہے، میں کسی کی خوشی کیلئے کبھی بھی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی ہمارے ملک کے خلاف اقدام کرے۔

اپنے دورہ امر یکہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے کم خرچ کیا، کمر شل فلائٹ سے سفر کیا، ہوٹل کی بجائے سفارتخانہ کے کمرے میں ٹھہرا کیونکہ میں بتانا چاہتا تھا کہ ملک کے معاشی حالات کی وجہ سے میں بچت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور آصف زرداری نے 12 اور 14 لاکھ ڈالرز میں کئے تھے جبکہ میرے دورہ پر کل اخراجات 1.5 لاکھ ڈالرز ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ وہاں بڑے ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں تحفے تحائف دیتے ہیں تو وہ آپ کی عزت نہیں کرتے بلکہ مذاق اڑاتے ہیں دوسری جانب جب وہ دیکھتے ہیں کہ کسی لیڈر کو اپنے ملک کی فکر ہے تو وہ اس کی عزت کرتے ہیں، غیر ملکی سربراہان حکومت ہمارے حکمرانوں کی تعلیم، سیاست اور ایمانداری کے بارے میں بھی سب جانتے ہیں ، ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس کی اربوں روپے کی پراپرٹی بیرون ملک ہیں تو وہ اس کی عزت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ  اللہ تعالی نے مجھے دنیا بھر میں عزت دی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ میرا کوئی پیسہ باہر نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کرپشن کی ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ چین بھی ہماری عزت کرتا ہے اور اس نے ریکارڈ وقت میں جے 10 سی طیارے ہمیں دیئے ہیں، 1982ء کے بعد اس طرح کے جدید جہاز پاکستان آئے ہیں اور سات ماہ میں یہ سکوارڈن ملا ہے اور ایف 16 کے بعد یہ جدید ترین طیارے ہیں جن سے ملک کے دفاع کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

سورس:وی  این ایس، اسلام آباد