اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سینیٹر فیصل جاوید کی طرف سے پیش کردہ “نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ (ترمیمی) بل” کو کچھ ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ کمیٹی کا اجلاس پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کو سینیٹر کیشو بائی کی طرف سے اٹھائے گئے “کے الیکٹرک کی طرف سے بچے کے علاج کے حوالے سے فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سفارشات پر عمل درآمد” کے معاملے پر کے الیکٹرک کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی مہینوں سے بائیونکس نامی کمپنی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جو مصنوعی اعضاء بنانے میں مہارت رکھتی ہے اور بعد میں انہیں پتہ چلا کہ کمپنی دسمبر 2021 میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کمپنی کم از کم ہماری ضروریات پوری کرے تاہم بائیونکس کے حکام نے بتایا کہ کمپنی نے 2016 میں اسٹارٹ اپ کے طور پرآغاز کیا اور 2021 میں انکارپوریٹ ہوگئی جبکہ اس نے اپنی وینڈر رجسٹریشن بھی مکمل کر لی ہے۔ بائیونکس، کے الیکٹرک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور بازو لگانے کی قیمت پر بات چیت کر رہی ہے، جو بائیونکس کے مطالبہ کے مطابق 12 لاکھ روپے ہے۔ کے الیکٹرک حکام کا موقف تھا کہ یہ معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہے اور وہ اس پر رائے نہیں دے سکتے۔ چیئرمین کمیٹی نے کے الیکٹرک کے سی ای او اور میڈیکل پینل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں تاکہ معذور بچے کو بازو لگانے کے معاملے کو حل کیا جائے۔مزید برآں، کمیٹی نے سینیٹر مشتاق احمد کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس وقت گوانتاناموبے میں زیر حراست پاکستانی شہریوں کی تعداد کا معاملہ اگلے اجلاس تک موخر کر دیا۔اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر محمد طاہر بزنجو، سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر عابدہ محمد عظیم، سینیٹر فلک ناز، سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغنائی، سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹر کیشو بائی سمیت وزارت انسانی حقوق اور کے-الیکٹرک کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔











