اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام اوورسیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں امریکہ ، برطانیہ اور بھارت کے مخالف نہیں بلکہ انکی پالیسیوں کیخلاف ہوں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں امریکہ، برطانیہ، بھارت سمیت کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ کسی ملک کی پالیسی کے خلاف ہو سکتا ہوں، میں نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مخالفت کی کیونکہ اس جنگ میں بیگناہ مارے جا رہے تھے، میں نے عراق جنگ کے خلاف برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی، برطانیہ کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کے خلاف تھا، ہندوستان میں ہندوتوا نظریہ کی پڑھے لکھے اور کثیر تعداد میں لوگ مخالفت کر رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تباہی کا راستہ ہے، وہاں میڈیا اور ججز پر خوف طاری ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ بھارت میں اچھی قیادت آئے، وہ کشمیریوں کو حقوق دے، بھارت اگر 5 اگست کا اقدام واپس لے تو اس سے بات چیت ہو سکتی ہے، حالات معمول پر آ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدعنوان لیڈر پیسے سے پیار کرنے والے لوگ ہیں،یہ پیسے کے لالچ میں ملک بیچ سکتے ہیں، نواز شریف کا ڈان لیکس اور زرداری کا میمو گیٹ سکینڈل پاک فوج کے خلاف تھا، پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی طاقتور ترین افواج میں سے ہیں، اگر ہماری طاقتور افواج نہ ہوتیں تو ملک ٹکڑے ہو چکا ہوتا، دنیا میں مسلمان ممالک کے ساتھ جو کچھ ہوا ہمارے ساتھ بھی ہوتا تاہم فوج کی وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے، ہماری افواج ملک کا دفاع کرنے والی فوج ہے، زرداری نے امریکہ میں حسین حقانی کو سفیر بنایا جو امریکی فوج کے سربراہ سے کہتا تھا کہ زرداری کو پاک فوج سے بچا لو جبکہ نواز شریف ہندوستان کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ فوج غلط کر رہی ہے، نواز شریف آپ کے ساتھ ہے، پاک فوج کو دہشت گرد قرار دینے والے مودی کو نواز شریف اپنی فیملی میں شادیوں پر بلا رہا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن پر دنیا کے بڑے اخبارات میں کرپشن پر مضمون لکھے گئے۔











