ملتان، 26مارچ (اے پی پی):وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا، جنوبی پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کو خرچ کرنے کیلئے فینسنگ کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کو اعتماد میں لیکرپارٹی منشور کے مطابق صوبہ جنوبی پنجاب کا بل پیش کیا ہے۔ آج بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اگر وسیب سے مخلص ہیں تو اس بل کی حمایت کریں۔ پی ٹی آئی اپنے وعدے پورے کررہی ہے اور یہ بل بہت جلد سٹینڈنگ کمیٹی کو پیش کیا جائے گا جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں لایا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے باب القریش ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ مخدومزادہ زین حسین قریشی، صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری، ایم پی اے وسیم خان بادوزئی، سابق سٹی صدر ملک عدنان ڈوگر،پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری معین ریاض قریشی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے بیرسٹر تاج لنگاہ سمیت بہت سے سٹیک ہولڈرز نے جدوجہد کی، یہ الگ بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی صوبہ تو درکنار کچھ بھی نہ کرسکے۔جبکہ ن لیگ نے دو صوبوں کی بات کرکے صوبے کی راہ میں رکاوٹ حائل کی۔ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا کہ میں نے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی سے کہا کہ آپ بھی صوبے کے حامی ہیں اور میں بھی صوبے کے قیام کے لئے جدوجہد کررہا ہوں آئیں ملکر اس بات کو آگے بڑھائیں لیکن جب انہوں نے واضح اور مثبت جواب نہ دیا تومیں نےبلاول بھٹو کو خط لکھا۔ میں حیران ہوں کہ بلاول بھٹو عوام کے سامنے تو صوبے کی بات کرتے ہیں۔ مگر اسمبلی فلور پر صوبے کی طرف نہیں آتے اور نہ ہی انہوں نے اب تک صوبے کے حوالے سے میرے دونوں خطوط کا جواب دیا۔ حالانکہ میں نے انہیں کہا کہ آپ کی والدہ بھی جنوبی پنجاب صوبہ دیکھنا چاہتی تھیں۔ آپ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں لیکن انہوں نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے میرے دورہ سندھ کے دوران میلسی جلسے میں خطاب سے قبل میرے ساتھ مشاورت کی اور اس کے بعد انہوں نے میلسی جلسے میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے اپنی واضح پالیسی کا اعلان کیا۔ جس کا عوامی سطح پر خیر مقدم کیا گیا۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاتحریک انصاف کی قیادت نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور وسیب کے لوگوں کے مطالبے پر جنوبی پنجاب صوبے کو منشور کا حصہ بنایا۔ تحریک انصاف کیونکہ وفاق کی جماعت ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ چھوٹے صوبے قائم ہوں تاکہ ان کے حقوق پامال نہ ہوسکیں۔ پنجاب کیونکہ بڑا صوبہ ہے اس لئے وہ جنوبی پنجاب کے حقوق ادا نہیں کررہا۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے زبانی جمع خرچ تو بہت سی جماعتوں نے کیا لیکن پی ٹی آئی نے سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھ کے عملی کام کا آغاز کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بیورو کریسی نے ہمارے راستے میں رکاوٹیں حائل کیں۔ لیکن ہم نہ تو گھبرائے اور نہ ہی گھبرانے والے ہیں۔ بلکہ ہم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اس سلسلے میں پنجاب میں 6 رکنی کمیٹی قائم گئی۔ جس میں ہاشم جواں بخت، ڈاکٹراختر ملک سمیت دیگر اراکان شامل تھے۔ جنہوں نے اس پر ورکنگ کی۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں عامر ڈوگر، احمد حسین ڈیہڑ اور ملتان کے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرا ساتھ دیا اور ہم جنوبی پنجاب کا علیحدہ صوبائی بجٹ مختص کرانے اور اس کا کتابچہ شائع کرنے کے قابل ہوئے۔ اب اس سالانہ اے ڈی پی کونہ تو کوئی تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری حق چھینا جا سکتا ہے۔ الحمد اللہ آج ملتان اور بہاولپور میں قائم سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی سمیت 16 محکمہ جات کام کررہے ہیں۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی عمارتوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے اوراب میں نے پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق ایک صوبے کا بل سپیکر کو جمع کروادیا ہے۔ یہ بل جمع کروانے سے پہلے میں نے وزیراعظم عمران خان کو اعتماد میں لیا۔ پھر کابینہ سے اس کی منظوری لی گئی اور میں نے یہ بل سپیکر کو دے دیا ہے۔ گیلانی صاحب اگر اسے ڈرامہ قرار دے رہے ہیں تو وہ یہ ڈرامہ خود کر لیتے اب انہیں چاہئے کہ وہ اگر اس وسیب سے مخلص ہیں تو بل کی حمایت کریں۔
مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سپیکر بہت جلد یہ بل سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجیں گے جو اس کا مکمل جائزہ لے گی اور بعد میں یہ بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ وزیرخارجہ نے پیشکش کی کہ اگر قومی اسمبلی کے ارکان اس بل کے حوالے سے کوئی مثبت تجاویز دینا چاہیں تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس بل کی ایک کاپی سپیکر جبکہ دوسری کاپی ڈپٹی سپیکر کو جمع کروادی ہے۔ اس موقع پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے بل کی کاپی بھی میڈیا کو دکھائی۔
وزیرخارجہ نے پریس کانفرنس کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کہا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر اس بل کی حمایت کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بزرگ سیاست دان میربلخ شیر مزاری، سردار نصراللہ دریشک، مخدوم خسرو بختیار، ملک عامر ڈوگر، ملک احمد حسین ڈیہڑ سمیت تمام پارلیمنٹرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بل جنوبی پنجاب کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی خواہش پر پیش کیا گیا ہے اور میں نے اس خطے کا فرزند ہونے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اب اس بل کو پروان چڑھانے میں عوام اور اورجنوبی پنجاب کی تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کہ وہ اپنی جماعتوں کی قیادت پرزوردیں کہ وہ صوبے کے قیام کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے سرائیکی جماعتوں کےمطالبہ پر صوبےکےقیام کابل پیش کیا ہے۔ کیا نام پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ وسیب کی جماعتوں کا مطالبہ صوبہ سرائیکستان ہے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں تمام سرائیکی جماعتوں کا احترام کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ وہ بڑے مقصدکی جانب توجہ دیں اور صوبے کے قیام کے سلسلے میں بھر پور تعاون کریں۔ پی ٹی آئی کیونکہ وفاق کی جماعت ہے اس لئے ہم لسانیت سے بالاتر ہو کر سوچتے ہیں اور تمام زبانیں بولنے والوں کا احترام کرتے ہیں مجھے توقع ہے کہ تمام سرائیکی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ تعاون کریں گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا صرف تین اضلاع پر مشتمل صوبے کا قیام اقتصادی طور پرممکن نہیں ہے۔ اس لئے پی ٹی آئی اپنے منشور پر عمل کررہی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ہم علیحدہ صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان کے اراکان اسمبلی کی جانب سے گزشتہ روزکامیاب ریلیوں کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ یہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی 27 مارچ کو عمران خان کی کال پر لبیک کہتے ہوئے اسلام آباد میں امر باالمعروف اجتماع میں شرکت کریں گے اور ملتان کی ریلیوں جیسے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنا نمایاں کردار ادا کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں واضح طور پرکہتا ہوں کہ عمران خان تحریک عدم اعتماد میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طبقہ پاکستان کی خدمت کرنا چاہا رہا ہے جبکہ دوسراطبقہ مفادات کی سیاست کیلئے عوام کو بھڑکا رہا ہے۔ اسلام آباد میں تصادم نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کو اسلام آبادآنے سے روکا جا رہا ہے۔ اور نہ ہی معزز اراکین کو اسمبلی جانے سے روکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 27 مارچ کا دن تحریک انصاف کی سیاست اور پاکستان کو ایک نئی سمت میں لے جائے گا۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کو صرف عمران خان سے بغض ہے اور اس کی مخالفت میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ اور قوم دیکھے گی یہ ساراٹولہ بکھر جائے گا۔
بعد ازاں مخدوم شاہ محمود قریشی نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملتان کے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں سے 27 مارچ کے اسلام آباد جلسے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔











