صدر اس وقت اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک میں ہونے والے انتشار کے ذمہ دار ہیں؛ قمرزمان کائرہ

9

اسلام آباد،24مئی  (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان  قمرزمان کائرہ نے کہا  کہ  نے کہا کہ صدر اس وقت اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک میں ہونے والے انتشار کے ذمہ دار ہیں۔

منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ  اور دیگر  وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان  قمرزمان کائرہ نے کہا  کہ  عمران خان کی ساری سیاست جھوٹ پر مبنی رہی ۔ وہ ہمیشہ عوام میں مایوسی پھیلا کر جھوٹ بولتے رہے ہیں، کبھی وہ بین الاقوامی سازش یا قتل کی  سازش  کا بیانیہ  الاپتا ہے اور کبھی کچھ اور، ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کاحصہ ہیں، کابینہ میں جو فیصلے ہوئے ہیں ان کا بھرپور دفاع کریں گے، یہ فیصلے پاکستان کو انارکی سے بچائیں گے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی گرفتاری سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور نہ آئندہ ہوں گے، پاکستان میں حکومت بین الاقوامی دنیا کو متوجہ کر رہی ہے، عمران خان پاکستان کی سیاست کو پراگندہ کرنے چلے ہیں، عمران خان نے ایک خاتون کے بارے میں جس طرح کے خیالات اور الفاظ استعمال کئے ہیں اس کی ساری قوم مذمت کر رہی ہے، یہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔

 انہوں نے صدر مملکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر جو پاکستان کے وفاق کی علامت اور پارلیمان کا حصہ ہوتا ہے، کی طرف سے غیر آئینی رویے کی مذمت کرتے ہیں، آج پاکستان میں جو غیر یقینی کی صورتحال ہے وہ صدر مملکت کی وجہ سے ہی ہے، وہ حکومت کے اپوزیشن لیڈر کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  آغا حسن بلوچ نے کہا کہ موجودہ حکومت  جمہوری اور آئینی طریقے سے بنی ہے اور اس کے خلاف لانگ مارچ کرنے والے سیاسی کلچر کو تباہ کر رہے ہیں۔

 قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عمرا ن خان نے خواتین کے حوالے سے جو زبان استعمال کی وہ قابل مذمت ہے، جو شخص خواتین کے حوالے سے غیر مناسب گفتگو کرتا ہے تو ان سے کس طرح خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن جلسے، جلوس اور مارچ   تمام سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن کسی کو خونی لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گا توان کے خلاف سخت  کارروائی کی جائے گی۔

x