طیبہ گل کےمعاملےپرچئیرمین نیب کوبلیک میل کرکےسیاسی مقاصدحاصل کئےگئے؛ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب

7

اسلام آباد،15جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کابینہ اجلاس پرمیڈیابریفنگ میں کہا ہے کہ  کابینہ کے اجلاس میں جنسی ہراسگی کا شکار خاتون طیبہ گل کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ طیبہ گل نے سابق حکومت کے پی ایم پورٹل پر اپنی شکایت درج کرائی اور انہیں جواب ملا کہ ان کی شکایت انسانی حقوق کی وزارت کو بھجوا دی گئی ہے، اس کے بعد پی ایم آفس نے طیبہ گل سے رابطہ کیا اور انہیں بلا کر ان کے مطابق 18 دن وزیراعظم ہائوس میں انہیں اغواء کر کے رکھا گیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے پی ایم پورٹل کی تشہیر ہم چار سال سنتے رہے، جنسی ہراسگی کا شکار خاتون نے اس پورٹل پر شکایت درج کرائی جس پر ایکشن کی بجائے انہیں 18 دن اغواء کر کے رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم آفس کی جانب سے طیبہ گل سے ثبوت لے کر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے، چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے سیاسی مقاصد پورا کرنے کا مکروہ دھندہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف جنسی ہراسگی کے سنجیدہ الزامات کی باضابطہ اور شفاف تحقیقات کے لئے کمیشن آف انکوائری کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو کمیشن کے ٹرم آف ریفرنسز اور اس کی سربراہی کے لئے تین افراد پر مشتمل پینل تجویز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن ”کمیشن آف انکوائریز ایکٹ 2017” کے تحت قائم کیا گیا ہے، کمیٹی اس انکوائری کے وقت کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہائوس اس جرم میں ملوث تھا، بلیک میلنگ کی گئی اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو خاتون شکایت لے کر آئی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔