حيدرآباد، 22 اگست (اے پی پی) : صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے حالیہ موسلا دھار بارشوں اور شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے مد نظر 9 ستمبر 2022 کے بجائے سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کو 23 اگست 2022 سے کام شروع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات انہوں نے پیر کو ایچ ایم سی کے افسران سے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کیمپ آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ غیر حاضر ملازمین کو فوری طور پر نوکریوں سے بر طرف کریں اور نئے لوگوں کو بھرتی کریں کیوں کہ بلدیاتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سندھ حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے ایچ ایم سی کے افسران کو ہدایت کی کہ شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے تمام ملازمین سے کام لیا جائے اور شہر سے کچرہ اٹھا کر سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کے کلیکشن پوائنٹس پر پہنچائیں اور اس ضمن کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ایچ ایم سی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ آج سے زیرو ٹالرنس کی بنیاد پر کام کریں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کا دباؤ برداشت نہ کیا جائے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں تعلقہ دیہی میں بھی سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کام شروع کرے گا۔انہوں نے ایکس ای این ایچ ایم سی سے استفسار کیا کہ ان کے پاس کتنے ملازمین ہیں اور وہ کہاں کام کر رہے جس پر انہوں نے بتایا 11 سو ملازمین ہیں جن میں سے 400 ملازمین کام کر رہے ہیں اور 700 ملازمین فرض کی ادائیگی کیے بغیر تنخواہ لے رہے ہیں جس پر صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو کو کہا کہ وہ ایچ ایم سی کی نگرانی کریں اور کوتاہی کرنے والے افسران کے خلاف رپورٹ پیش کریں تاکہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو نے یقین دلایا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بلدیاتی اداروں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا اور ان کے کار گذاری کی نگرانی بھی کی جائے گی۔
اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد فاخر شاکر اور متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔











