بلوچستان میں سیلاب ومتاثرین کی امداد وبحالی وزیراعظم فلڈ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کا آغاز کردیا گیا

14

 کوئٹہ۔22اگست (اے پی پی): بلوچستان کی دیگر 27 اضلاع کی طرح لسبیلہ میں مون سون کی طویل غیر معمولی بارشوں سےوسیع وعریض رقبے پر سیلاب کی تباہ کاریاں ہوئی ہیں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت چاروں صوبوں میں سیلاب متاثرین کی بحالی اور مالی امداد وبحالی کے حوالے سے کوششیں کررہی ہے وزیراعظم پاکستان نے گزشتہ روز متاثرین کیلئے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے 15 لاکھ خاندانوں کیلئے فی گھرانہ 25 یزار روپے مجنوعی طورپر 37 ارب روپے سیلاب متاثرین میں تقسیم کئے جائیں گے محکمہ تعلقات عامہ لسبیلہ بلوچستان کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے حالیہ دورہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مالی امداد کیلئے کئے گئے اعلانات اور لسبیلہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کی درخواست پر حکومتی اداروں نے عملدرآمد شروع کردیا ہے وزیراعظم فلڈ ریلیف پیکیج کے تحت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مالی امداد بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے فراہمی کا آغاز کردیا گیا ہے جن متاثرین کے گھر بار مال مویشی سب کچھ سیلاب میں بہہ گئے انکے لئے پچیس ہزار کی مالی امداد ابتدائمرحلے میں کم سہی لیکن بلوچستان میں حکومتی اقدامات کا آغاز ہے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ مراد خان کاسی کی کوششوں سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاقائی دفتر کے تعاون سے لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی مالی امداد کے پروگرام پر کام شروع کردیا گیا یے ڈپٹی کمشنر آفس کے احاطے میں واقع چلڈرن پا رک میں اس سلسلے کی تقریب منعقد کی گئڈپٹی کمشنر لسبیلہ مرادخان کاسی نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کو وزیراعظم فلڈ ریلیف اسکیم کےتحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فی خاندان ابتدائمرحلے میں 25 ہزارروپے نقد مالی امداد دی جبکہ ریگولر مستحقین کو فی خاندان 14 ہزار روپے کی قسط کا اجرائبھی کیا اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وحیداللہ نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کو دی گءبریفنگ میں بتایا گیا کہ لسبیلہ میں ساڑھے چھ یزار ریگولر مستحق خاندانوں کیلئے فی خاندان 14 ہزار روپے اور وزیراعظم فلڈ ریلیف پیکیج کے تحت ابتدائمرحلے میں 25ہزار روہے فی خاندان مالی امدادادائیگی کا طریقہ کار بائیومیٹرک کے زریعے طے کیا گیا ہے نادراکی تصدیقی بائیومیٹرک سسٹم کے تحت شفاف طریقے سے سیلاب متاثرین کو کیش مالی امداد گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں مجموعی طور ہر لسبیلہ میں گیارہ یزار چھ سو پچاس سیلاب متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دی جائیگی ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نےڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل آفس بی آئایس پی کو احکامات جاری کئے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیجانب سے وزیراعظم فلڈ ریلیف پیکیج کی ادائیگی سیلاب متاثرہ علاقوں بیلہ لاکھڑا کنراج دریجی کے انہی علاقوں میں کی جائےجہاں سیلاب کے بعد متاثرین پناہ لئے ہوئے ہیں ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر بی آئی ایس پی 8 مقامات پر کیمپ لگارہی ہے جہاں سیلاب متاثرین کو وزیراعظم فلڈ ریلیف پیکیج کے تحت کیش مالی امداد دی جائیگی واضح رہے کہ حالیہ مون سون سیز ن میں جاری طوفانی بارشوں سے لسبیلہ میں ہزاروں خاندان بے گھرہوئےبیں غیر معمولی بارشوں سے سرکاری و نجی املاک زرعی ولائیواسٹاک شعبے انفراسٹرکچر سسٹم ایریگیشن بندات مواصلاتی رابطوں دولاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی زرعی فصلات اوراراضیات کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم حکومتی ادارے پاک فوج کی معاونت سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی اور امدادی سرگرمیاں بلاتعطل جاری رکھے ہوئےہیں خاص طور سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں محکمہ ایریگیشن محکمہ سی اینڈ ڈبلیو محکمہ صحت اور لائیواسٹاک ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں متحرکانہ طورپر فرائض کی سرانجام دہی میں دن رات مصروف عمل ہیں سیلاب متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے پراونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سےاضلاع کی سطح پر قائم کی گء14 رکنی ڈیزاسٹرڈیمیجز اسسمنٹ کمیٹی ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں موثر اور شفاف طریقے سے سروے رپورٹس کی تیاری مینڈیٹ کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہے پاک فوج کی اسپیشل سیکیورٹی ڈویڑن 44 کے میجر جنرل عنایت حسین اور بریگیڈیئر فیصل سیلاب متاثرین کیلئے جاری ریسکیو ریلیف آپریشن اور ریونیو اسسمنٹ کو شفاف بنانے کیلئے مانیٹرنگ کا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جو پاک فوج کی پروفیشنل کمٹمنٹ اور ہم وطنوں کی مشکل کی گھڑی میں خدمت کے جذبے کا آئینہ داریے خیال رہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ غیر حتمی جائزے کے مطابق بلوچستان کے 27 اضلاع میں تین لاکھ ساٹھ ہزارافراد سیلاب سے متاثر یوئے ہیں 207 قیمتی انسانی اموات 23 ہزار سے زائد مکانات 690 کلومیٹر طویل شاہرائیں 18 پل ایک لاکھ سے زائد مویشیاں سیلاب میں بہہ گئہیں سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں لسبیلہ ہے جو حکومت کو ریونیو فراہم کرنے والا ضلع رہا ہے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سےلسبیلہ میں 75 رابطہ سڑکیں لائیواسٹاک سیکٹر میں 80ہزار مرغیاں 9 ہزار مویشیاں بہہ جانے 29 انسانی اموات ایریگیشن بندات اسکولز بنیادی مراکز صحت ٹیلی کمیونیکیشن اور واٹرسپلائاسکیمات کو بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں نقصانات کاازالہ حکومت بلوچستان کے بس میں نہیں وفاقی حکومت کو تعاون کرنا ہوگادوست ملک امریکہ کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی جس گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے امریکی امداد کو بحالی کے ایسی منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا جو ہائیدار اور مستقل بنیادوں پر ایسا انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مددگار ہو اور پسماندہ خطوں کے لوگوں کی احساس محرومی کا ازالہ بھی کرسکے ہمیں یہ امر پیش نظر رکھنا ہوگا کہ آئندہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے چیلنجز سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے مستقل بنیادوں ہر پلاننگ کرنی ہوگی عالمی موسمی تبدیلیوں سے آئندہ برس بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لسبیلہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں چھوٹے بڑے چیک ڈیمز کے پائلٹ پراجیکٹس تعمیر کرنیکی منصوبہ بندی کرنی ہوگی جومستقل اورپائیدار بنیادوں پر سیلاب کی اضافی پانی کی روک تھام اور پانی کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوں۔