سیلاب متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی زندگی اور املاک کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے؛کمشنر راجہ جہانگیر

20

رحیم یار خان، 27 اگست (اے پی پی ): کمشنر بہاولپور ڈویژن راجہ جہانگیر نے کہا ہے کہ لوگوں کی زندگی اور املاک کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بہترین حکمت عملی تیار کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے  ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور  امدادی کیمپوں کا دورہ کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر کو بے نظیربھٹو شہید برج چاچڑاں شریف دریائے سندھ کے مقام پر سیلابی صورتحال، ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی ۔چیف انجینئر انہار خالد بشیر، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر عادل رحمٰن نے بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر الماس صبیح، سی ای او ہیلتھ اور ڈائریکٹر لائیوسٹاک نے  بھی بریفنگ دی۔

ڈویژنل کمشنر نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو بارشوں اور سیلاب کی صورت میں قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے فلڈ ریلیف فنڈ قائم کیا ہے  جبکہ مخیر حضرات و ادارے اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں۔ انہوں نے  انتظامیہ کو ہدایت کی  کہ بغیر کسی سوچ و بچار دریا کی بیٹ میں موجود افراد کو باہر امدادی کیمپوں میں منتقل کیا جائے ۔چشمہ،تونسہ اور پنجند بیراج پر پانی کی آمد و نکاسی پر کڑی نظر رکھی جائے ۔

 کمشنر بہاولپور ڈویژن  نے کہا کہ ضلع رحیم یار خان کی چاروں تحصیلوں میں شہری آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ۔ ڈپٹی کمشنر اضافی خیموں، خوراک، مویشیوں کے چارہ، ویکسینیشن کا انتظام مکمل رکھیں۔ اس کے علاوہ  پی ڈی ایم اے کو بھی ضلع رحیم یار خان میں لائف جیکٹس اور اضافی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

 کمشنر راجہ جہانگیر انور  نے کہا کہ منچن بند کے ساتھ قائم امدادی کیمپوں کے علاوہ ہر چار کلومیٹر پر ایک عارضی خیمہ بستی فوری قائم کی جائے ،ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکمے بروقت بچاؤ کے کاموں اور متاثرین کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے لئے تمام وسائل اور کوششوں کا استعمال کررہے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ محکمہ صحت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے امکان سے نمٹنے اور متاثرہ افراد کو  طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے میڈیکل کیمپ لگانے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ لائیوسٹاک کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل اور مکمل دیکھ بھال کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے

 کہا کہ دریائے سندھ چاچڑاں شریف کے مقام پر 5 لاکھ 22 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا دریائے سندھ سے گزر رہا ہے۔ 20 اگست کو دریائے سندھ سے 6 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزارا گیا ہے۔ دریائے سندھ کی بیٹ میں موجود 54 مواضعات مکمل جبکہ 44 جزوی متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال سے دریائے سندھ بیٹ میں فصلیں زیرآب تاہم مکانات محفوظ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے،دریائی بیٹ میں موجودہ مواضعات سے آبادی محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی ہے ۔ کچھ افراد تاحال اپنے گھروں میں حفاظت کے لئے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ  ضلعی انتظامیہ نے چاروں تحصیلوں میں سیلاب متاثرین کے لئے امدادی کیمپ قائم کر دئے ہیں۔

 ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے کہا  کہ امدادی کیمپوں میں ریسکیو، صحت، لائیوسٹاک، مال، پولیس اور متعلقہ اداروں کا عملہ ہمہ وقت دستیاب ہے ۔ دریائے سندھ، چناب میں پانی کے بہائو پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے۔

چیف انجینئر انہارخالد بشیر نے کہا کہ چشمہ،تونسہ، کالا باغ کے مقام پر بھی سیلابی پانی کو مانیٹر کیا جا رہا ہے ۔ ہیڈ پنجند تا گدو بیراج تک منچن بند مکمل اور خطرے سے باہر ہے۔ 10 لاکھ کیوسک تک پانی گزارنے کی منچن بند میں صلاحیت موجود ہے۔