لاہور ،یکم ستمبر ( اے پی پی ) :وزیر خزانہ پنجاب محمد محسن خان لغاری نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بین ہینسن سے ملاقات کی ۔صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر دریشک، سیکریٹری فنانس اور سیکرٹری فوڈ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ملاقات میں پنجاب میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری اور آ ئند ہ پروگرامز اور سیلاب کے سبب پیدا ہونے والی معاشی صورتحال میں آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئےوزیر خزانہ پنجاب محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں کی بحالی ہے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے ریسکیو، علاج اور اشیاء خورد و نوش کی فراہمی کافی نہیں ہے حکومت کااصل چیلنج بے گھر خاندانوں کی رہائش کا بندوبست اور روزگار کی بحالی ہے۔ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ شعبہ جات میں سب سے زیادہ نقصان زراعت کو پہنچا فصلوں کی تباہی پنجاب ہی نہیں پورے ملک کو غذائی قلت کی طرف لے جا رہی ہے زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کسان اور عوام دونوں کے لیے پریشان کن ہےصوبائی حکومت ان تمام مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے فوری اقدامات لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وسائل کے موثر استعمال کے لیے ٹارگیٹڈ سبسڈی پر غور کیا جا رہا ہےعوام کو غذائی تحفظ کی فراہمی کے لیے گندم اور دیگر زرعی اجناس کے حصول کی پالیسی پر نظر ثانی کی جا رہی ہے متاثرہ خاندانوں کو سماجی تحفظ کی فوری فراہمی کے لیے احساس پروگرام کے تحت راشن اور مالی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے موجودہ حالات میں ڈویلپمٹ پارٹنرز کے ساتھ فنانشیل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر مشاورت اور تعاون ہی ہماری پہلی ترجیح ہے بہاو پانی کی فطرت ہے لیکن بہاؤ کے لیے درست سمت کا تعین ہمارے اختیار میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایریگیشن کا منظم نظام اور ڈیمز کی تعمیر سیلاب کی تباہی کاریوں سے تحفظ کا سب سے موثر حل ہیں مستقبل میں مسئلے کے مستقل حل کے لیے پائیدار اقدامات کو یقینی بنایا جائے گاامید کرتے ہیں کہ صوبائی سطح پرموثر پالیسی سازی اور وسائل کے بہترین استعمال کے لیے ورلڈ بینک کی خدمات دستیاب رہیں گی۔ ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر ناجے بین ہینسن کی جانب سے وزیر خزانہ کو پنجاب حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ۔











