سیلاب کے نتیجے میں عوام کا ذریعہ معاش تباہ ہو گیا ہے،پاکستان اتنا تر قی یافتہ ملک بھی نہیں ہے کہ موجود صورتحال کو جلدقابو کر لے، مشیر داخلہ بلو چستان میر ضیاء اللہ لانگو

12

کوئٹہ05ستمبر(اے پی پی): صوبائی مشیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگونے کہا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں عوام کا ذریعہ معاش مکمل طور پر  تباہ ہو گیا ہے، پاکستان اتنا تر قی یافتہ ملک بھی نہیں ہے کہ موجود صورتحال پر  جلدقابو کر لے۔ صوبائی حکومت کی کوشش ہےکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں اور ریلیف نہیں پہنچ سکے وہاں جاکر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے آرمی چیف نہ ہی کسی کی مرضی سے آتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مرضی سے جاتے ہیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان کو میں ایک سمجھ دار انسان سمجھتا تھا لیکن انکا بیان پاکستان دشمنی پرمبنی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے کو پی ڈی ایم اے کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ مشیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کہاکہ بلو چستان میں سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کے والی تمام این جی اوز ، یو این کے ساتھ ایک میٹنگ میں بلو چستان کی موجود صورتحال پر نظر ڈالی گئی کہ سیلا ب سے متاثرہ کوئی علاقہ تو نہیں رہ گیا جہاں کام نہیں ہوا یا پھر ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کر نے لئے پاک فوج ، حکومتی ادارے او ر این جی اوز کام کر رہی ہیں،محکمہ پی ڈی ایم اے سے مشاورت کی جائے گی کس ضلع میں کس ان جی او نے کا م کرنا تاکہ کسی  بھی متاثرہ علاقے میں ریلیف کا کام رہ نہ جائے۔انہوں نے کہاکہ سیلاب کے نتیجے میں پورا بلوچستان متاثرہوا ہے یہاں کے عوام کا ذریعہ معاش لائیواسٹاک اور زراعت مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمر ان خان کے ساتھ میں نے کام بھی کیا ہے میں انہیں ایک سمجھدار انسان سمجھتا تھا،سیاست میں اختلاف ہو تے رہتے ہیں لیکن مجھے عمران خان سے یہ تو قع نہیں تھی پاک فوج ملک کا واحد ڈسپلنڈ ادارہ ہے جس کا ہر کام ایک طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے آرمی چیف نہ ہی کسی کی مرضی سے آتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مرضی سے جاتے ہیں فوج کے سربراہ کی تقرری کا اپنا ایک آئینی طریقہ کار ہے جس کے مطابق فوج حکومت کو تین نام بھیجتی ہے جس میں وزیر اعظم اپنے آئینی اختیار کے مطابق ایک نام سلیکٹ کرتی ہے اس وقت عمران خان کا یہ بیان پاکستان دشمنی پرمبنی ہے ۔