اسلام آباد،08ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر خان نے کہاکہ حکومت پائیدار اور صاف توانائی کے حصول کے لئے پر عزم ہے،درآمدی ایندھن کے بجائے ہائیڈل،سولر،ونڈ،تھر کول اور نیو کلیئر جیسے مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار کو ترجیح دی جائے گی ۔
ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سی پیک کے تحت تو انائی کے منصوبوں کے حوالے سے رپورٹ کے اجرا ءکے موقع پر کیا ۔انہوں نے کہاکہ توانائی پاکستان کے لئے بہت اہم شعبہ ہے اور اس کا معاشی ترقی میں اہم کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کا ساتواں ہدف کلین اور قابل رسائی انرجی ہےجس کے لئے ہم کوشش کررہے ہیں ،روس یوکرین تصادم کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھیں جس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آیا ،حکومت کی ترجیح ہے کہ اب توانائی مقامی وسائل سے پیدا کریں گے،یعنی درآمدی نہیں مقامی وسائل ہائیڈل،سولر،ونڈ،تھر کول اور نیوکلیئر سے ہی بجلی پیدا کریں گےاورکہاکہ وزارت توانائی ،پی پی آئی پی، متبادل توانائی بورڈ اور دوسرے اداروں میں جدت لائی جارہی ہے، گورننس بہتر کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ 30لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، بڑی تباہی ہوئی ہے ،ماضی کی حکومت نے گرمیوں میں بجلی کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ، گرمیوں میں بجلی کی شدید کمی کا سامنا تھا اس سال گرمی کا موسم بھی جلد شروع ہو گیااس سے بھی توانائی کی ڈیمانڈ بڑھی ۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل میں توانائی کا منظر نامہ ملکی وسائل کے استعمال پر مبنی ہوگا، ہماری پالیسی ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا ہر نیا منصوبہ ملکی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لگایا جائے جس میں ہائیڈل، سولر، ونڈ، تھر کول اور نیوکلیئر شامل ہیں۔
وزیر توانائی نے کہا کہ چین ہماری مقامی توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں سب سے اہم شراکت دار ہے۔اس موقع پر چیف ریپریزنٹیٹیومسٹر ژانگ جون نے کہاکہ سی پیک”بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹیو کا ایک اہم منصوبہ ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کی مشترکہ ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے ایک اہم محرک کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ رپورٹ سی پیک انرجی پراجیکٹس کا احاطہ کرتی ہے، پاکستان کے پاور سیکٹر کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتی ہے اور اس کے مستقبل کے آئوٹ لک پر روشنی ڈالتی ہے، میری رائے یہ ہے کہ یہ ایک شاندار رپورٹ ہے جوقابلِ اعتمادمعلومات پر مبنی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ چینی کمپنیاں خصوصا پاکستان کی کلین اینڈ گرین انرجی کی جانب رغبت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں،میں اس رپورٹ کے اجرا ءمیں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداروں کاشکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے اس رپورٹ کو حتمی شکل دینے میں غیر معمولی تعاون اور کردار ادا کیا ۔











