کراچی۔27اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان مرچنٹ میرین شپنگ پالیسی پر جلد از جلد نظر ثانی کرتے ہوئے اس شعبے کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ سہولت کاری اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرکے پالیسی کو موثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس یہاں چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت جمعرات کو منعقد ہوا جس میں سینیٹرز نزہت صادق، مولا بخش چانڈیو، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایم طارق ہدیٰ، چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ریئر ایڈمرل جواد احمد، شپنگ انڈسٹری کے نمائندوں اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ شپنگ انڈسٹری سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے جبکہ اس سلسلے میں ریلوے، آبی وسائل اور خزانہ کی وزارتوں سے مشاورت کو بھی یقینی بنایا جائے۔مرچنٹ میرین شپنگ کے لیے ایک قابل عمل، نتیجہ خیزاورموثر پالیسی وقت کی ضرورت ہے، کمیٹی کے اراکین نے مزید کہا کہ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے تمام متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط اور پالیسیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ مرچنٹ میرین شپنگ پالیسی 2001پر بریفنگ کے دوران کمیٹی کے ارکان نے دو دہائیوں تک ایسی پالیسی جاری رکھنے کی وجوہات پر سوال اٹھایا جو اپنے مقررہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے وزارت بحری امور کے سینئر حکام کی اجلاس میں غیر حاضری پر سخت نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزارت کے سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کی غیر حاضری کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2001کی پالیسی میں ترمیم کی گئی تاکہ مقامی شپنگ انڈسٹری کو مراعات دی جا سکیں اور 2030تک ترقی کے متعین اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔ ماہر بحری امور انور شاہ نے شپنگ انڈسٹری کے لیے کچھ فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام اجناس کی درآمد کا معاہدہ ایف او بی کی بنیاد پر کیا جائے کیونکہ اس سے نہ صرف درآمدی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ انشورنس اور دیگر چارجز بھی ملک کے اندر ادا کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے اشیاء کی درآمد پاکستانی بحری کمپنیوں کے ذریعے کی جائے، قومی شپنگ انڈسٹری کومراعات دی جائیں اور پاکستانی شہریوں کو روزگارکی فراہمی پر غیر ملکی کمپنیوں کے لئے مراعات کا اعلان کیا جائے۔شپنگ کمپنی کے اونر نعیم سرفراز نے کہا کہ انڈسٹری کو مراعات کی نہیں بلکہ حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کم سے کم وقت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔کیپٹن مسعود عالم اور دیگر ماہرین نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پورٹس اینڈ شپنگ کو کنسلٹنٹ، ماہرین اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کرکے ملک میں شپنگ کے شعبے سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کو از سر نو ترتیب دیا جائے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اس وقت ملک میں نقل و حمل کے لیے آبی گزرگاہوں کے استعمال سے متعلق کوئی اصول یا ضوابط موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کو وزارت آبی وسائل کے ساتھ اٹھائے گی کیونکہ دریائوں کا استعمال دنیا بھر میں نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ تعلیمی نصاب میں سمندری حیات اور آبی وسائل کے بارے میں مواد موجود نہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل قدرتی ماحولیاتی نظام اور قومی معیشت کے ایک اہم پہلو سے لاعلم ہے۔کمیٹی نے یہ تجویز بھی دی کہ اسکول کے بچوں کے بندرگاہوں اور کے پی ٹی سمیت دیگر بحری تنصیبات کے دوروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عجائب گھروں میں بحری امور سے متعلق خصوصی شعبہ جات قائم کیے جائیں تاکہ انہیں اس موضوع سے آگاہ کیا جاسکے۔











