ملتان،07دسمبر (اے پی پی):وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نشتر ہسپتال میں ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 52 کروڑروپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کو یہاں نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر یاسیمین راشد نے کہا کہ نشترہسپتال کو ادویات کی خریداری کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ دی جارہی ہے،نشتر ہسپتال کو کینسر کے مریضوں کے لیے پوزیٹران ایمیشن ٹوموگرافی(پی ای ٹی)اسکین مشین فراہم کی جارہی ہے کیونکہ اس حوالے سے تمام قانونی کارروائی مکمل کرلی گئی ہیں اور نشتر جنوبی پنجاب کا پہلا اسپتال ہوگا جہاں یہ سہولت دستیاب ہوگی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں صحت کے میگا پراجیکٹس تکمیل کے قریب ہیں،نشتر II ہسپتال کی ایمرجنسی اوراو پی ڈی کوآئندہ سال مارچ تک فعال کر دیا جائے گا،جس سے خطے بھر کےمریضوں کوسہولت ملے گی،جلد وہاں ٹراما سنٹر بھی قائم کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسیمین راشد نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال بھی جلد فعال ہو جائے گا، ملتان اور لیہ میں مدراینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال جبکہ میانوالی میں ہسپتال کی تعمیربھی تکمیل کےقریب ہے۔
ہیلتھ کارڈ پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ان کی حکومت نے عام آدمی کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کیا تھا،اب تک 28 لاکھ خاندانوں نے یہ سہولت حاصل کی،جس میں 68 فیصد نجی ہسپتالوں اور32 فیصد نے سرکاری ہسپتالوں سے صحت سہولیات حاصل کیں،سب سے زیادہ ڈائیلاسز،آنکھوں کے مریض مستفید ہوئے جبکہ ڈیلیوری،ایکسیڈنٹس،کینسراور دیگرامراض کے مریضوں نے بھی ہیلتھ کارڈسہولت سےاستفادہ حاصل کیا۔
وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ وفاقی اور صوبائی حکومت کا مشترکہ منصوبہ ہے،97 فیصد لوگوں نے ہیلتھ کارڈ پراجیکٹ پراطمینان کااظہارکیا ہے۔
قبل ازیں ڈاکٹر یاسمین راشد نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کےسنڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کی ۔جس میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی رانا الطاف،ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹرراؤ امجد اوردیگر سنڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی۔
دوران اجلاس 31 ایجنڈا آئٹمز اور10 ٹیبل ایجنڈا آئٹمز زیر بحث لائے گئے،نشتر ہسپتال کے لیے 11 ارب روپے سالانہ ترقیاتی فنڈزاورنشتر میڈیکل یونیورسٹی میں مختلف کورسز کی منظوری دی گئی۔ڈاکٹر یاسمین راشد نےمتعلقہ حکام کو نشتر میڈیکل یونیورسٹی اورنشترہسپتال کے معاملات میں قواعد و ضوابط پرعمل درآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ علاج معالجے کی سہولیات میں بہتری ان کی اولین ترجیح ہے۔











