سکھر،یکم جنوری (اے پی پی):درود ہوگا سلام ہوگا ، پھر سال نو کا آغاز ہوگا کے عنوان سے تنظیمات اہلسنت کے زیر اہتمام مفتی محمدابراہیم القادری ،مفتی عارف سعیدی، مولانارضوان خان، الحاج عدنان رضاقادری کی خصوصی ہدایت پرسکھر اضلاع کی مختلف مساجد میں خصوصی دعائیہ تقریبات کا انعقاد ہوا مرکزی تقریب مرکزی جامع مکرانی مسجد سکھر میں ہوئی ، مرکزی تقریب میں جانشین مفتی اعظم فقیہ العصر، شیخ االحدیث جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ابراہیم القادری تھے جبکہ دیگر مہمان گرامی تنظیمات اہلسنت سکھر کے چیئرمین مشرف محمود قادری ، صاحبزادہ علامہ علی رضاالقادری ، مولانا محمدافضل حسینی،ڈاکٹرسعیداعوان،محمد محمد رضوان قادری سمیت مشہور نعت خواں سمیت عوام اہلسنت و معزز شہریوں نے بھرپورشرکت کی۔
تقریب سے جانشین مفتی اعظم فقیہ العصر، شیخ االحدیث جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ابراہیم القادری و دیگر علماءکرام کا کہنا تھا کہ نبی پاکﷺ کا کردار ہی دنیا کائنات کا سب سے خوبصورت کردار ہے جسے انسانیت اپنے لیے مشعل راہ بنا سکتی ہے،عظمت رفتہ کی بحالی تعلیمات نبویﷺ پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے چار دشمن امریکہ ،انڈیا ، اسرائیل،روس جن کے مذاہب الگ ہیں،لیکن مسلمانوں کو ختم کرنے کیلئے آپس میں ایکا کر رکھا ہے ، تو پھرچار مسالک متحد ہوکر اسلام کا پرچم کیوں نہیں بلند کر سکتے۔
علماءکرام کا کہنا تھا کہ نئے سال کی ابتداءقوم کیلئے اچھا شگون ہے، نیو ایئر ناچ گانا، ناکام اور بیہودہ عاشقوں کی ڈرامہ بازی ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا کی عبادت اور مخلوق کی خدمت سے نیو ایئر خوشیوں کا سال بن سکتا ہے ، نئے سال کا آغاز اگر عبادت سے کیا جائے تو نیا سال پاکستان میں خوشحالی کی ضمانت ہے ، قوم کو اس سال کچھ ایسی تدابیر اختیار کرنی چاہے کہ مل کر ایک شہر محبت تعمیر کرے۔
علماءکرام کا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں اپنے مذموم مقا صد کے لیے مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر انہیں کمزور کرنا چاہتی ہیں، عظیم قومیں چھوٹے چھوٹے اختلافات اور مسائل کو اپنے درمیان انتشار و نفاق کا باعث نہیں بننے دیتے،اگرقوم متحد ہو جائے اورنئے سال کا آغاز اس تجدیدعہد کے ساتھ کیا جائے تاکہ ماضی کا کوئی دہشتگرد ہمارے مستقبل کو آگ نہ لگا سکے۔
علماءکرام نے کہا کہ ہم اچھے دنوں کو خود ہی گناہوں کی نظر کر دیئے ہیں ، یہ وقت باہمی لڑائیوں ،اور تعصبات کو ہوا دینے کا نہیں بلکہ محبتوں کو فروغ دے کر ملک کو تبائی سے بچانے کا ہے،پاکستان اس وقت جس نازک صورت حال سے دوچار ہے ،اس کو اس بھنور سے نکالنے کے لیے جوش کے ساتھ ساتھ ہوش کی بھی ضرورت ہے،خدا نئے سال کو پاکستان کے لیے مبارک بنا دے۔
اختتام دعائیہ تقریب ملک کی سلامتی و خوشحالی سمیت عوام کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے خصوصی دعا کی گئی ۔











