اسلام آباد،9مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی میں تحقیر مجلس شوری (پارلیمنٹ)بل 2023 پیش کردیا گیا۔ سپیکر نے بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر تے ہوئے ہدایت کی کہ 7 دن کے اندررپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں رانا محمد قاسم نون نے تحریک پیش کی کہ تحقیر مجلس شوری بل 2023 پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ رانا قاسم نون نے بل کے اغراض و مقاصد بیا ن کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور آف انسٹی ٹیوشنز ہے۔ ہر کوئی توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوتاہے۔ دنیا کی دیگر پارلیمنٹس میں توہین پارلیمنٹ کا قانون موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ توہین پارلیمنٹ کے حوالے سے جزا و سزا کا عمل ناگزیر ہے۔
وزیرمملکت برائے قانون و انصاف ملک شہادت اعوان نے کہا کہ یہ پرانا بل ہے مگر مزید غور کے لئے کمیٹی کے سپرد کیاجائے۔قائدحزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے کہا کہ یہ اس ایوان کی عزت کا مسئلہ ہے۔ کمیٹی میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ اس ایوان کا کوئی رکن پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کا مخالف نہیں ہے۔ بل کے حوالے سے قواعد کے تحت ساری کارروائی مکمل کی جائے۔ قادر خان مندو خیل نے کہا کہ پارلیمنٹ سے کارروائی کی تفصیل طلب کرنا دبائو ڈالنا ہے۔ کسی قانون کے تحت پارلیمنٹ سے کوئی بھی تفصیل نہیں مانگ سکتا۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے کمیٹی کے سپردکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ رانا قاسم نون نے جو بات کی ہے کہ وہ پورے ایوان کے دل کی آواز ہے۔ عمران خان کی سہولت کاری کی جارہی ہے ۔ مٹی پائو آگے چلنے سے کام نہیں چلے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا گیا۔ پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے۔ اس کی کوکھ سے ادارے جنم لیتے ہیں۔ اس ایوان کی اگر کوئی عزت اور اہمیت نہیں ہے تو پھر یہاں سے بننے والے قوانین کو توہین عدالت کا نام دیا جاتا ہے۔سپیکر پارلیمنٹ کے فیصلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے رولنگ دیں اور پارلیمنٹ کی قانون سازی کا دفاع کیا جائے۔
غلام علی تالپور نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بالادستی کے لئے موجودہ قوانین انتہائی کمزور ہیں۔ امریکا میں یہ قوانین انتہائی مضبوط ہے۔ پارلیمنٹ کی عزت کے لئے یہ بل اچھی کاوش ہے۔ اس بل میں تاخیر نہ کی جائے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ پارلینٹ سپریم ادارہ ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیے۔ ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں،ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ ہم سیاسی معاملات کے حوالے سے کسی اوردروازے پر نہیں جائیں گے۔ محسن لغاری نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قواعد کے تحت بل کو کمیٹی کے سپرد کرنا لازمی ہے۔ ابھی تک تو بل ہم نے دیکھا بھی نہیں ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بل اچھی کاوش ہے یہ کام پہلے ہو جانا چاہئے تھا اگر ہم اداروں کی کریم اور توقیر کی بات کرتے ہیں تو وہ ہوا میں نہیں ہونی چاہئے ہمیں قانون سازی کرنی چاہئے کیونکہ قوانین دائمی ہوتے ہیں۔ کون سا قانون بنانا ہے اور کونسے قانون میں ترمیم کرنی ہے یہ اس ایوان کا حق ہے۔ کمیٹی میں بل بھیجنے کا مقصد بل کے مسودے کو بہتر بنانا ہے۔ جس ادارے کے پاس قانون کی تشریح کا اختیار ہے اسے بھی اس ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا چاہئے۔ ورنہ افراتفری پیدا ہوتا ہے اور ریاست کمزور ہوتی ہے۔ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہاں سےبننے والے قوانین کا ہم دفاع بھی کرسکتے ہیں۔ بل کمیٹی کے سپرد کردیں،بل منظور کرنا اور مسترد کرنا صرف اور صرف اسی ایوان کا اختیار ہے۔ کمیٹی سے ہو کر بل آجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
اسلم بھوتانی نے کہا کہ وزیر قانون نے راست بات کی ہے کمیٹی میں بل بھیجا جائے تاکہ کل کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ صابر حسین قائم خانی نے کہا کہ بل اچھی کاوش ہے ، بل کے محرک مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہم سب پر الزامات لگائے جاتے رہے مگر ثابت نہیں ہوسکے۔ اس کا سدباب ہونا چاہئے۔ بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔محمد ہاشم نوتیزئی نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ ایوان کی بالادستی کے لئے اس بل کی حمایت کرتے ہیں۔ آئین بنانے والے ہم ہیں۔ ہم آئین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ریاض محمود مزاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اور ارکان کی بے توقیری نہیں ہونی چاہئے۔جب تک ہم سب پارلیمنٹ میں متحد ہو کر آپس میں اتفاق نہیں کریں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں یہاں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ پارلیمنٹ میں بدتمیزی اور بداخلاقی کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے۔ بل کی حمایت کرتے ہیں۔
مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ اہم بل ہے بل کی لینگویج مردو خواتین ارکان کے حوالے سے درست کی جائے۔سپیکر نے آئین کے آرٹیکل 263 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بل میں مرد و خواتین سب کو مخاطب کیا گیا ہے۔ شیخ فیاض الدین نے بھی بل کو کمیٹی کے سپرد کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ ضابطہ کی کارروائی مکمل کی جائے۔ خالد مگسی نے کہا کہ پارلیمنٹ جمہوری نظام میں بے انتہا اہمیت کی حامل ہے۔ ہمیں باہر سے بھی نقصان پہنچا ہے مگر اندر سے بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس بل کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اس بل کو مزید بہتر بنایا جائے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 ایوان کے ارکان کے استحقاق کا دفاع کرتا ہے۔اس آرٹیکل کے تحت ہم قانون سازی کرسکتے ہیں۔د یہ قانون سازی ہمیں بہت پہلے کرنی چاہئے تھی۔ ہمیں اس قانون کو بڑی سوچ بچار کے ذریعہ بہتر بنانا چاہیئے۔ بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ یہ تاثر بھی نہیں جانا چاہئے کہ یہ بل کسی کی ردعمل کے بعد لایا گیا ہے۔ ایوان سے اجازت ملنے پر رانا قاسم نون نے بل ایوان میں پیش کیاجو اس ہدایت کے ساتھ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا کہ کمیٹی 7 دنوں میں بل پر رپورٹ مرتب کرکے ایوان کو پیش کرے۔











